اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 253
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 253 خطبه جمعه فرمودہ 24 جون 2005(اقتباس) بھی اپنی انا اور تکبر یا کسی بھی قسم کی بڑائی دل میں لئے ہوئے ہے وہ تقویٰ سے عاری ہے۔جو بھی اپنے علم کے زعم میں دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے وہ تقویٰ سے خالی ہے۔لیکن جو لوگ اپنی عبادتوں کے ساتھ ساتھ عاجزی اور انکساری دکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بندوں کی عزت کرتے ہیں، ان سے محبت کرتے ہیں ، ان کے حقوق ادا کرتے ہیں ، ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہیں اور یہ صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف ہے، صرف اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔صرف اس لئے کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی محبت نے اس کی مخلوق سے محبت پر بھی ان کو مجبور کیا ہے تو یہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے بے انتہا انعام پانے والے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ایک حدیث میں اس بارے میں ذکر آتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال اور میری عظمت کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔اور آج جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہے میں انہیں اپنے سایہ رحمت میں جگہ دوں گا۔(صحیح مسلم ، کتاب البر والصلة والأدب، باب فضل الحب في الله تعالى) تو دیکھیں جو لوگ خدا تعالیٰ کا تقویٰ دل میں رکھتے ہوئے ، اس کے رعب اور اس کی عظمت کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ان کے دل اس خوف سے کانپتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کے حقوق ادا نہ کر کے وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث نہ بن جائیں۔ایسے بندے وہ بندے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والے ہیں۔پس یہ وہ روح ہے جو ہر احمدی کے دل میں پیدا ہونی چاہئے۔کیونکہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کے بعد آپ ہی وہ قوم ہیں جن پر دنیا کی اصلاح کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔اس لئے اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ ہے، اگر اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کی خواہش ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی چاہتے ہیں تو پھر اللہ کی مخلوق سے محبت بھی اس کی محبت حاصل کرنے کے لئے اور اپنے انجام بخیر کے لئے اور اس کے سایہ رحمت میں جگہ پانے کے لئے کرنی ہوگی۔