اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 252
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 252 خطبه جمعه فرمودہ 24 جون 2005(اقتباس) نمازوں کی نگرانی ہماری اگلی نسلوں کو گناہوں سے پاک رکھنے کی ضامن ہوگی نمازوں کی حفاظت اور نگرانی ہی اس بات کی ضامن ہوگی کہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو گنا ہوں اور غلط کاموں سے پاک رکھے۔ہماری نمازوں میں با قاعدگی یقیناً ہمارے بچوں میں بھی یہ روح پیدا کرے گی کہ ہم نے بھی نمازوں میں با قاعدہ ہونا ہے۔اس کی اسی طرح حفاظت کرنی ہے جس طرح ہمارے والدین کرتے ہیں۔اور جب یہ بات ان بچوں کے ذہنوں میں راسخ ہو جائے گی، بیٹھ جائے گی کہ ہم نے نمازوں میں با قاعدگی اختیار کرنی ہے تو پھر والدین کو یہ چیز اس فکر سے بھی آزاد کر دے گی کہ اس مغربی معاشرے میں جہاں ہزار قسم کے کھلے گند اور برائیاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ، ہر وقت والدین کو یہ فکر رہتی ہے کہ ان کے بچے اس گند میں کہیں گر نہ جائیں۔دعا کے لئے لکھتے ہیں، کہتے بھی ہیں اور خود کوشش بھی کرتے ہوں گے، دعا بھی کرتے ہوں گے۔اگر اپنے بچوں کو ان گندگیوں اور غلاظتوں میں گرنے سے بچانا ہے تو سب سے بڑی کوشش یہی ہے کہ نمازوں میں با قاعدہ کریں۔کیونکہ اب ان غلاظتوں اور اس گند سے بچانے کی ضمانت ان بچوں کی نمازیں اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق دے رہی ہیں۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ: إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (التبوت: 46) یعنی یقیناً نماز بدیوں اور نا پسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔گویا ان نمازوں کی حفاظت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی ان نمازوں کے ذریعہ سے ضمانت دے دی ہے کہ خالص ہو کر میرے حضور آنے والے اب میری ذمہ داری بن گئے ہیں کہ میں بھی اس دنیا کی گندگیوں اور غلاظتوں سے ان کی حفاظت کروں اور ان کو نیکیوں پر قائم رکھوں ، تقویٰ پر قائم رکھوں۔۔۔۔تقویٰ کا اعلیٰ معیار تبھی قائم ہو سکتا ہے جب پیار، محبت اور عاجزی اور ایک دوسرے کی خاطر قربانی کی روح پیدا ہو۔کیونکہ جس میں اپنے بھائی کے لئے محبت نہیں اس میں تقوی بھی نہیں۔جس میں انکسار نہیں وہ بھی تقویٰ سے خالی ہے۔جس دل میں اپنے بیوی بچوں کے لئے نرمی نہیں وہ بھی تقویٰ سے عاری ہے۔جو بیوی یا خاوند ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرتے وہ بھی تقوی سے خالی ہیں۔جو عہدیدار اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں وہ بھی تقویٰ سے خالی ہیں۔غرض کہ جو دل