اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 254

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 254 خطبه جمعه فرمودہ 24 جون 2005(اقتباس) میاں بیوی کے معاملات میں تلخیاں نہیں پیدا ہونی چاہئیں۔۔مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کینیڈا میں بڑی تیزی کے ساتھ شادیوں کے بعد میاں بیوی کے معاملات میں تلخیاں پیدا ہو رہی ہیں۔اور میرے خیال میں اس میں زیادہ قصور لڑکے، لڑکی کے ماں باپ کا ہوتا ہے۔ذرا بھی ان میں برداشت کا مادہ نہیں ہوتا۔یا کوشش یہ ہوتی ہے کہ لڑکے کے والدین بعض اوقات یہ کر رہے ہوتے ہیں کہ بیوی کے ساتھ انڈر سٹینڈنگ (Understanding) نہ ہو۔اور ان کا آپس میں اعتماد پیدا نہ ہونے دیا جائے کہ کہیں لڑکا ہاتھ سے نہ نکل جائے۔یا پھر اس لئے بھی رشتے ٹوٹتے ہیں کہ بعض پاکستان سے آنے والے لڑکے، باہر آنے کے لئے رشتے طے کر لیتے ہیں اور یہاں پہنچ کر پھر رشتے تو ڑ دیتے ہیں۔کچھ بھی ایسے لوگوں کو خوف نہیں ہے۔ان لڑکوں کو کچھ تو خدا کا خوف کرنا چاہئے۔ان لوگوں نے ، جن کے ساتھ آپ کے رشتے طے ہوئے ، آپ پر احسان کیا ہے کہ باہر آنے کا موقع دیا۔تعلیمی قابلیت تمہاری کچھ نہیں تھی۔ایجنٹ کے ذریعے سے آتے تو 15-20لاکھ روپیہ خرچ ہوتا۔مفت میں یہاں آگئے۔کیونکہ اکثر یہاں آنے والے لڑکے ٹکٹ کا خرچہ بھی لڑکی والوں سے لے لیتے ہیں۔تو یہاں آ کر پھر یہ چالاکیاں دکھاتے ہیں۔یہاں آکر رشتے توڑ کر کوئی اپنی مرضی کا رشتہ تلاش کر لیتا ہے یا پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق بعض رشتے ہو جاتے ہیں۔اور بعض دوسری بیہودگی میں پڑ جاتے ہیں۔اور پھر ایسے لڑکوں کے ماں باپ بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے ہیں، چاہے وہ یہاں رہنے والے ہیں یا پاکستان میں رہنے والے ماں باپ ہیں۔پھر بعض مائیں ہیں جو لڑکیوں کو خراب کرتی ہیں اور لڑکے سے مختلف مطالبے لڑکی کے ذریعے کرواتی ہیں۔کچھ خدا کا خوف کرنا چاہئے ایسے لوگوں کو۔پھر بعض لڑکے، لڑکیوں کی جائیدادوں کے چکر میں ہوتے ہیں۔بچے بھی ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی بجائے اس کے کہ بچوں کی خاطر قربانی دیں قانون سے فائدہ اٹھا کر علیحدگی لے کر جائیداد ہڑپ کرتے ہیں۔اور اگر بیوی نے بیوقوفی میں مشترکہ جائیداد کر دی تو جائیداد سے فائدہ اٹھایا اور پھر بچوں اور بیوی کو چھوڑ کر چلے گئے۔