اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 211
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 211 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) میں کپڑے پہناؤں۔پس تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تمہیں لباس عطا کروں گا۔اور پھر فرمایا اے میرے بندو! تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں تمام گناہ بخشتا ہوں۔پس تم مجھ سے بخشش طلب کرو میں تمہیں تمہارے گناہ بخش دوں گا۔اے میرے بندو! ( یہاں عبادت کی طرف توجہ دلائی ہے ) تم اس مقام پر نہیں پہنچے سکتے کہ مجھے نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی تم ایسی حیثیت رکھتے ہو کہ مجھے نفع پہنچاؤ۔(تو بندے کو کوئی اختیار ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو عبادت کر کے یا نہ کر کے نقصان یا نفع پہنچا سکے۔اس کی آگے پھر وضاحت فرمائی) کہ اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے، تمہارے عوام اور تمہارے خواص ، تم میں سے ایک انتہائی متقی دل رکھنے والے شخص کی طرح ہو جائیں تو یہ میری سلطنت میں کچھ بھی اضافہ نہ کر سکے گا۔اور اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے، تمہارے عوام اور تمہارے خواص تم میں سے انتہائی فاجر دل رکھنے والے کی طرح ہو جائیں تو اس سے میری سلطنت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔اے میرے بندو! اگر تمہارے پہلے اور تمہارے پچھلے، تمہارے عوام اور تمہارے خواص ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگنے لگیں اور میں ہر شخص کو اس کی مطلوبہ اشیاء عطا کر دوں تو بھی جو کچھ میرے پاس ہے۔اس میں سے کچھ بھی کمی کرنے کا باعث نہ ہو گا سوائے اس کے جتنا سوئی کو سمندر میں ڈال کر نکالنے سے کمی واقع ہوتی ہے۔اور اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جو میں تمہاری خاطر شمار کرتا ہوں۔پھر میں پوری پوری جزا تم کو عطا کرتا ہوں۔مجھے کوئی شمار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔تمہیں جزا دینے کے لئے شمار کرتا ہوں۔پس تم میں سے جو شخص خیر پائے (اکثر یہ ہوتا ہے کہ شمار کے بجائے بے حساب جانے دیتا ہے ایسی بھی روایات ہیں ) پس تم میں سے جو شخص خیر پائے اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرے۔اور جو اس کے سوا پائے اسے چاہئے کہ وہ صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے۔سعید کہتے ہیں کہ جب راوی یہ حدیث بیان کرتے تھے تو گھٹنوں کے بل گر جاتے تھے۔