اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 212 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 212

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 212 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) پس یہاں جو فرمایا کہ حمد کرے تو یہ حمد عبادت ہی سے ہے جتنی زیادہ اللہ تعالیٰ کی حمد کی طرف توجہ پیدا ہو گی اتنی ہی زیادہ عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔فرمایا کہ اگر نہیں کرو گے مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ سب دنیا کے بندے، موجود بھی، پہلے بھی اور نئے آئندہ بھی جو دنیا میں آنے والے ہیں وہ بھی اگر متقی بن جائیں اور ایک متقی شخص کی طرح ہو جا ئیں تو اس سے میری حکومت اور ملکیت میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ادنی سا بھی فرق نہیں پڑے گا اتنی بھی کمی نہیں ہوگی۔اگر سب برائیوں اور گناہوں میں مبتلا ہو جائیں تو بھی میری سلطنت اور بادشاہت میں کمی نہیں ہوگی۔اتنی کمی بھی نہیں ہوتی جتنی سمندر میں ایک سوئی کو ڈبونے سے اس کے نگے میں جو پانی کا قطرہ چمٹ جاتا ہے اس پانی کے نکلنے سے کمی ہوتی ہو۔یہ سب چیزیں تو تمہارے فائدہ کے لئے ہیں۔اپنی دنیا اور عاقبت سنوارنے کے لئے تم یہ عبادت کرتے ہوا گر تم میرے سامنے جھکتے ہو۔پھر ایک روایت میں آتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: انسان اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو اس لئے سجدے میں بہت دعا کرو“۔(مسلم) كتاب الصلواة ما يقول في الركوع والسجود) یہ عبادت کے طریق ہیں۔نماز کی طرف توجہ ہے۔جونماز پڑھے گا تو سجدے میں بھی جائے گا۔تو نمازوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔پھر نمازوں میں سجدے میں سب سے زیادہ دعا کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔کیونکہ ایک جگہ فرمایا کہ نماز ہی عبادت کا مغز ہے۔نمازوں میں بھی جیسا کہ میں نے کہا جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا سب سے اچھا موقع ہے وہ سجدے کی حالت میں ہے۔جب انسان نہایت عاجزی سے اپنا سر خدا تعالیٰ کے آستانہ پر رکھتا ہے آگے جھکتا ہے، اس سے التجا کرتا ہے،اس سے مانگتا ہے۔یہی حالت ہے جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بہت قریب انسان ہوتا ہے۔اس لئے اس وقت بہت زیادہ مانگنا چاہئے۔اور اس وقت مانگو تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو بھی جوش میں لاؤ، اور رحم کو بھی جوش میں لاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: غرض کہ ہر آن اور پل میں اس کی طرف رجوع کی ضرورت ہے اور مومن کا