اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 210 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 210

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل فرمایا کہ 210 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) دعا ہی دراصل عبادت ہے۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِى اَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيْنَ (المومن: 61) اور تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو میں تمہیں جواب دوں گا۔یقیناً وہ لوگ جو میری عبادت کرنے سے اپنے تئیں بالا سمجھتے ہیں ضرور جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔(ترمذی ابواب الدعوات باب ما جاء في فضل الدعاء) عبادت اور دعا کے اعلیٰ معیار اپنانے ہوں گے تو بالا تو وہی سمجھتے ہیں جن میں تکبر پایا جاتا ہے یا جن کے اندر شیطان گھسا ہوا ہے۔اس لئے شیطان ذہنوں میں ایسے خیالات پیدا کرتا رہتا ہے کیونکہ شیطان ہے اور شیطان کسی وقت بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔اس لئے چاہے جن پر اثر ہے یا نہیں ہے، اس لئے اپنے ماحول میں جیسا دنیا میں ماحول میسر ہے استغفار کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے تا کہ جہنم کے عذاب سے بچے رہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ باتیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ : اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے آپ پر حرام کیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔پس اے میرے بندو! تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔( یہ لمبی حدیث ہے اس میں مختلف قسم کے احکامات ہیں) تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں۔پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت عطا کروں گا۔پھر فرمایا اے میرے بندو! تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں۔پس تم مجھ سے کھانا طلب کرومیں تمہیں کھلاؤں گا۔اے میرے بندو! تم میں سے ہر ایک ننگا ہے سوائے اس کے جسے