اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 180
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 180 جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ 2004ء لجنہ سے خطاب فرمایا کہ ایمان کی مضبوطی تبھی قائم ہوگی جب صبر کی عادت بھی ہوگی۔عاجزی اختیار کرنا بھی ایمان کی طرف لے جانے والا ایک بڑا اہم قدم ہے پھر عاجزی ہے۔یہ بھی ایمان کی طرف لے جانے والا ایک بڑا اہم قدم ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کے حضور بھی عاجزی دکھاتے ہوئے جھکنا ہے اور اس کے بندوں سے بھی عاجزی سے پیش آنا ہے۔جتنی زیادہ عاجزی ہوگی اتنا زیادہ انسان ایمان میں ترقی کرتا ہے۔جس میں عاجزی نہیں اس میں ایک قسم کا تکبر ہے۔وہ اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھتا ہے۔دوسروں سے بڑا سمجھتا ہے۔بعض عورتوں میں اپنے روپے پیسے دولت کی وجہ سے تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔مردوں میں بھی پیدا ہوتا ہے۔اس وقت میں کیونکہ عورتوں سے مخاطب ہوں اس لئے عورتوں ہی سے کہہ رہا ہوں اور وہ دوسری عورتوں کو اپنے سے کمتر عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتیں، کچھ نہیں سمجھتیں۔بلکہ بعض دفعہ ایسا حقارت کا سلوک ہوتا ہے جیسے وہ بیچارے انسان ہی نہیں ہیں۔چاہئے تو یہ کہ اگر تمہارے پاس روپیہ پیسہ، دولت آ گئی ہے، تمہارے حالات دوسرے سے بہتر ہیں تو اپنی بہن کے لئے دل میں ہمدردی پیدا کرو، اس کی ضروریات کا خیال رکھو۔اس کے جذبات کا خیال رکھو۔شادی بیاہ پر فضول خرچی کرنے سے بچو۔صرف دکھاوے کے لئے اپنی بیٹی کا جہیز نہ بناؤ بلکہ ضرورت کے مطابق بناؤ۔اگر اللہ کا فضل نہ ہو تو جہیز لے کر جانے والی بچیاں ہی بعض دفعہ ظالم خاوندوں کے ہاتھوں یا ظالم سسرال کے ہاتھوں تکلیف اٹھا رہی ہوتی ہیں۔اس لئے ہمیشہ اللہ کا فضل مانگنا چاہئے۔صرف جہیز پر انحصار نہیں۔دعاؤں کے ساتھ بچیوں کو رخصت کرنا چاہئے نہ کہ اپنی دولت اور لڑکی کے جہیز یا فلیٹ یا مکان جو اس کو دیا گیا ہے اس پر انحصار کرتے ہوئے ، اس پر گھمنڈ کرتے ہوئے۔کبھی کسی غریب یا اپنے سے کم پیسے والے کی بچی کی رخصتی کو تحقیر کی نظر سے کبھی نہ دیکھیں۔جب اللہ تعالیٰ کے فضل شامل ہوں گے تبھی بچیاں بھی اپنے گھروں میں خوش رہیں گی ، آبادر ہیں گی۔بہر حال ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا فضل مانگنا چاہئے۔ہمیشہ عاجزی دکھانی چاہئے اور ہمیشہ عاجزانہ دعائیں مانگنی چاہئیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ عاجزی دکھانے سے، غریب کے ساتھ گھلنے ملنے سے اس کی تکلیفوں کا احساس ہوگا اور جب تکلیفوں کا احساس ہوگا تو اس کی خاطر قربانی کا جذبہ ابھرے گا۔اس سے ہمدردی کا جذبہ ابھرے گا۔اس کی ضروریات کو پورا کرنے کا