اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 179
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 179 جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ 2004 ء لجنہ سے خطاب بچوں کے سامنے کرتے ہیں تو اس سے بچے بھی بیچ کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ان کے نزدیک سچ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی یا جیسا کہ میں نے کہا بچوں کی غلط حمایت کر دی اس سے بھی بچوں میں غلط بیانی اور جھوٹ کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔خاوندوں کے سامنے بھی ناجائز مطالبات نہ کریں پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن کی یہ بھی نشانی ہے کہ وہ صبر سے کام لیا کریں۔زندگی میں بہت سے مواقع آتے ہیں کاروبار میں نقصان ہو گیا ، چوری ہوگئی ، ڈاکہ پڑ گیا وغیرہ وغیرہ۔یا بعض دفعہ خاوند کے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔عورت کی ضرورت کے مطابق اس کو رقم مہیا نہیں ہو رہی تو شور مچا دیتی ہیں بعض عورتیں، واویلا کرتی ہیں ، خاوندوں کے ساتھ لڑنا جھگڑنا شروع کر دیتی ہیں۔اپنی ڈیمانڈ ز بعض دفعہ اتنی زیادہ بڑھا لیتی ہیں کہ خاوند کو گھر میں خرچ برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہر دفعہ خاوند ہی صحیح ہوتے ہیں اور عورتیں ہی غلط ہوتی ہیں۔عورتیں بھی صحیح ہوتی ہیں بعض جگہ لیکن ان عورتوں کے بارے میں کہہ رہا ہوں جن کی اکثریت ایسی ہے جو ڈیمانڈ ز کرتی ہیں۔تو اس سے ہر وقت گھروں میں لڑائی جھگڑا فساد تو تکار ہوتی رہتی ہے۔یا پھر یہ ہے کہ خاوندان کے ناجائز مطالبات کی وجہ سے جب کبھی رستے سے اکھڑ جاتے ہیں ایسی صورت میں جب لڑائی ہو رہی ہوتو تکار ہو رہی ہو تو وہ پھر ایسے خاوند بھی ہیں کہ بیویوں پر ظلم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یا خاوند اپنی بیویوں کے ان مطالبات کو ماننے کی وجہ سے، انہیں پورا کرنے کے لئے ، قرض لینا شروع کر دیتے ہیں اور پھر سارا گھر ایک وبال میں گرفتار ہو جاتا ہے۔خاوند سے قرض خواہ جب قرض کا مطالبہ کرتے ہیں وہ ان سے ٹال مٹول کر رہا ہوتا ہے۔پھر ایک اور جھوٹ شروع ہو جاتا ہے اور جب وہ ادا نہیں کرتا تو پھر خاوند کی چڑ چڑاہٹ شروع ہو جاتی ہے۔پھر بچوں پر سختیاں شروع ہو جاتی ہیں۔بچے ڈسٹرب ہور ہے ہوتے ہیں۔تو ایک شیطانی چکر ہے جو بعض ناجائز مطالبات کی وجہ سے، صبر کا دامن چھوڑنے کی وجہ سے چل جاتا ہے۔اور پھر یہ ہوتا ہے کہ بچے ایک عمر کے بعد ایسے گھروں میں، گھر سے باہر سکون کی تلاش کرتے ہیں اور پھر ماں باپ کی تربیت سے بھی جاتے ہیں۔پھر برائیاں پیدا ہونی شروع ہوتی ہیں اور جب ماں باپ کو ہوش آتی ہے تو اس وقت، وقت گزر چکا ہوتا ہے۔اس لئے