اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 178

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حضہ اوّل 178 جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ 2004 ء لجنہ سے خطاب ہوں گی۔کبھی آپ کے دل میں یہ خیال نہیں آئے گا کہ میں فلاں جگہ غلط بات کہہ کر کوئی دنیاوی فائدہ اٹھالوں یا کبھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ فلاں عورت نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اس لئے اس کو بدنام کرنے کے لئے میں اس کے متعلق کوئی غلط بات مشہور کر دوں۔یا ساس سسر سے ناراضگی کی صورت میں غلط باتیں ان کی طرف منسوب کر دوں۔یا بچوں کی غلطی چھپانے کے لئے نظام کے سامنے یا قانون کے سامنے غلط گواہی دے دوں۔اگر یہ تمام باتیں کسی میں پائی جاتی ہیں تو اس کا ایمان بھی ضائع ہو گیا۔اس لئے مومن کے لئے حکم ہے وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّوْرِ یعنی جھوٹ کہنے سے بچو۔پھر فرمایا کہ مومنوں کی اللہ کے خالص بندوں کی یہ بھی نشانی ہے کہ لَا يَشْهَدُونَ النُّوْرَ جھوٹی گواہیاں نہیں دیتے۔بڑائی بیان کرتے ہوئے بھی کبھی جھوٹ نہ بولیں بعض دفعہ بعض عورتوں کو عادت ہوتی ہے بلا وجہ جھوٹ بول جاتی ہیں، مذاق میں یا دوسری عورت کو نیچا دکھانے کے لئے۔مثلاً یہی کہ کپڑا خریدا ہے سستا لیکن اگر دوسری عورت کے کپڑے کی گھر میں تعریف ہوگئی یا زیور کی تعریف ہوئی اور وہ کہے کہ اتنے میں خریدا ہے، پہلی والی فوراً کہے گی کہ میں نے بھی اتنے میں لیا ہے یا اس سے بڑھا کر اپنی قیمت بتائے گی تا کہ اپنی بڑائی بیان ہو۔تو اپنی بڑائی بیان کرنے کے ساتھ ساتھ جھوٹ بھی بیان ہو رہا ہو گا۔صرف اپنی اہمیت بتانے کے لئے ، اپنے آپ کو امیر ظاہر کرنے کے لئے یہ غلط بیانی سے کام لیا ہے تو یہ سب جھوٹ ہے اور جھوٹ میں ہی شمار ہوگا اور پھر ایسی عورتوں کے یا باپوں کے بچے جو ہیں ان میں بھی پھر غلط بیانی اور جھوٹ کی عادت ہو جاتی ہے اور پھر جب بچے گھر سے باہر نکلنا شروع کرتے ہیں اور اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لئے غلط بیانی سے کام لیتے ہیں تو پھر ماں باپ کو دکھ ہو رہا ہوتا ہے، تکلیف ہو رہی ہوتی ہے کہ ہمارے بچے فلاں فلاں خرابی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ان میں فلاں فلاں خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ہم سے جھوٹ بولتا رہا کہ میں فلاں جگہ جاتا ہوں اور غلط بیانی سے کام لیتا رہا اور کر کچھ اور رہا ہوتا تھا۔فلاں برائی میں مبتلا ہو گیا۔اب بڑی پریشانی ہے۔اگر جائزہ لیں تو اس کی عادت خود ماں باپ نے ڈالی ہوتی ہے۔کیونکہ بچے کے سامنے غلط باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔بہت سے مواقع پر دوسروں کے بارے میں غلط باتیں