اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 147

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 147 جلسہ سالانہ بر طانیہ 2004 مستورات سے خطاب لئے دیا گیا ہے اس کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں اور پہلے بھی اس بارے میں توجہ دلا چکا ہوں۔لیکن بعض باتوں اور خطوط سے اظہار ہوتا ہے کہ شاید میں زیادہ بختی سے اس طرف توجہ دلاتا ہوں یا میرار جان سختی کی طرف ہے۔حالانکہ میں اتنی ہی بات کر رہا ہوں جتنا اللہ اور اس کے رسول اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حکم فرمایا ہے۔پردہ کرنے کی روح اور مقاصد پردہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ پردے کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ عورت کو قید میں ڈال دیا جائے۔لیکن ان باتوں کا خیال ضرور رکھنا چاہئے جو پردے کی شرائط ہیں۔تو جس طرح معاشرہ آہستہ آہستہ بہک رہا ہے اور بعض معاملات میں برے بھلے کی تمیز ہی ختم ہوگئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ احمدی عورتیں اپنے نمونے قائم کریں۔اور معاشرے کو بتائیں کہ پردے کا حکم بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارا مقام بلند کرنے کے لئے دیا ہے نہ کہ کسی تنگی میں ڈالنے کے لئے۔اور پردے کا حکم جہاں عورتوں کو دیا گیا ہے وہاں مردوں کو بھی ہے۔ان کو بھی نصیحت کی کہ تم بھی اس بات کا خیال رکھو۔بے وجہ عورتوں کو دیکھتے نہ رہو۔جیسا کہ روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ راستوں پر مجلسیں لگانے سے بچو۔تو صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ہمیں رستوں پر مجلسیں لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اس پر رسول اللہ نے فرمایا رستے کا حق ادا کرو۔تو انہوں نے عرض کیا اس کا کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہر آنے جانے والے کے سلام کا جواب دو، غض بصر کرو، راستہ دریافت کرنے والے کی راہنمائی کرو، معروف باتوں کا حکم دو اور نا پسندیدہ باتوں سے روکو۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 مطبوعه بيروت ص 16) تو مردوں کو یہ حکم دیا ہے کہ اگر بازار میں بیٹھے ہو تو پھر سلام کا جواب دو بلکہ سلام کرو۔راستہ پوچھنے والوں کو راستہ بتاؤ۔اچھی اور پسندیدہ باتوں کا حکم دو۔تو یہ تمام باتیں ایسی ہیں جو آپس کے تعلقات بڑھانے اور نیکیاں قائم کرنے والی ہیں۔اور ان کے ساتھ ہی غض بصر کو بھی رکھا۔یعنی یہ بھی ایک ایسا عمل ہے جس سے تمہارے معاشرے میں پاکیزگی قائم ہوگی اور تمہیں نیکیاں کرنے کی مزید توفیق