اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 146
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 146 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب ہوئیں۔اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے۔وہ کہنے لگیں آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔میں آپ کے پاس مسلمان عورتوں کی نمائندہ بن کر آئی ہوں۔میری جان آپ پر فدا ہو۔شرق و غرب کی تمام عورتیں میری اس رائے سے اتفاق کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق کے ساتھ مردوں اور عورتوں کے لئے بھیجا ہے۔ہم آپ پر ایمان لائیں اور اس خدا پر بھی جس نے آپ کو معبوث فرمایا۔ہم عورتیں گھر میں ہی قید اور محصور ہو کر رہ گئی ہیں۔ہم آپ مردوں کی خواہشات کی تکمیل کا سامان کرتی ہیں۔اور آپ کی اولا دسنبھالے پھرتی ہیں۔اور آپ مردوں کے گروہ کو جمعہ، نماز با جماعت، عیادت مریضان، جنازوں پر جانا اور حج کے باعث ہم پر فضیلت حاصل ہے۔اس سے بڑھ کر جہاد کرنا بھی ہے۔آپ میں سے جب کوئی حج کرنے ، عمرہ کرنے ، یا جہاد کرنے کے لئے چل پڑتا ہے تو ہم آپ کے اموال کی حفاظت کرتی ہیں۔لباس کے لئے روٹی کا نتی اور آپ کی اولا د کو پالتی ہیں۔تو یا رسول اللہ پھر بھی ہم آپ کے ساتھ اجر میں برابر کی شریک نہیں ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک صحابہ کی طرف پھیرا اور فرمایا کہ کیا تم نے دین کے معاملہ میں اپنے مسئلہ کو اس عمدگی سے بیان کرنے میں اس عورت سے بہتر کسی کی بات سنی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہمیں یہ ہرگز خیال نہ تھا کہ ایک عورت ایسی ( گہری) سوچ رکھتی ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے کہ: اے عورت ! واپس جاؤ اور دوسری سب عورتوں کو بتا دو کہ کسی عورت کے لئے اچھی بیوی بننا، خاوند کی رضا جوئی اور اس کے موافق چلنا ،مردوں کی ان تمام نیکیوں کے برابر ہے۔وہ عورت واپس گئی اور خوشی سے لَا إِلَهَ إِلَّا الله اور اللہ اکبر کے الفاظ بلند کرتی گئی۔( تفسیر الدر المخور ) تو فرمایا کہ جو اس طرح تعاون کرنے والی اور گھروں کو چلانے والیاں ہیں اور اچھی بیویاں ہیں ان کا اجر بھی ان کے عبادت گزار خاوندوں اور اللہ کی خاطر جہاد کرنے والے خاوندوں کے برابر ہے۔تو دیکھیں عورتوں کو گھر بیٹھے بٹھائے کتنے عظیم اجروں کی خوشخبری اللہ تعالیٰ دے رہا ہے، اللہ کا رسول دے رہا ہے۔میں نے ابھی مختصر آچند باتیں بیان کی ہیں، جن میں کچھ تحفظات جو اسلام عورت کو فراہم کرتا ہے اور کچھ حقوق جو عورت کے ہیں ان کا ذکر کیا ہے۔اب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ، جو اصل میں عورت کو عورت کا وقار اور مقام بلند کرنے کے