اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 145
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 145 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب بے چینی پیدا کر رہی ہو تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے۔اس وجہ سے پھر بچوں کی ، آپ کی نسل بربادہور ہی ہوگی اور معاشرے میں بدنامی بھی ہورہی ہوگی۔لیکن ساتھ یہ حکم بھی دے دیا ہے کہ جو عورتیں اپنی اصلاح کر لیں تو پھر بہانے تلاش کر کے ان پر سختی کرنے کی کوشش نہ کرو۔اور اسی طرح جو عورتیں نیک ہیں، فرمانبردار ہیں ، تمہارے گھروں کی صحیح طور پر حفاظت کرنے والیاں ہیں، تمہارے مال کو احتیاط سے خرچ کرنے والیاں ہیں، اس رقم میں جو تم ان کو گھر کے اخراجات کے لئے دیتے ہو، گھر چلانے کے لئے دیتے ہو، کچھ بچا کر پس انداز کر کے تمہارے گھر کی بہتری کے سامان پیدا کرنے والیاں ہیں۔تمہارے بچوں کی صحیح رنگ میں تربیت کرنے والیاں ہیں ان کو معاشرے کا بہترین وجود بنانے والیاں ہیں، ان کا تو مردوں کو ہر طرح سے خیال رکھنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان پر سختیاں نہیں کرنی چاہئیں اور یہ سمجھتے ہوئے کہ مجھے اس پر فضیلت ہے اس لئے جو مرضی کروں۔اللہ تعالیٰ مردوں کو فرماتا ہے کہ اگر یہ سوچ ہے تو یا درکھو اسی نے فرمایا کہ اللہ تمہارے سے بڑا ہے، اللہ کوبھی فضیلت ہے۔اس لئے اُس کی پکڑ سے بچنے کے لئے ہمیشہ انصاف کے تقاضے پورے کرو۔اب اس کے بعد کیا دلیل رہ جاتی ہے کہ یہ کہا جائے کہ اسلام میں عورت کو کم تر سمجھا گیا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ ہم میں سے کسی پر اس کی بیوی کا کیا حق ہے؟ فرمایا جب خود کھاؤ تو اسے کھلاؤ۔خود پہنو تو اسے بھی کپڑے پہناؤ۔چہرے پر نہ مارو۔اسے برا بھلا نہ کہو اور ناراضگی کے باعث اگر علیحدہ ہونا پڑے تو پھر گھر میں اکٹھے ہی علیحدہ رہو۔(ابو داؤد كتاب النکاح باب في حق المرأة على زوجها) یعنی جیسا کہ پہلے بھی تفصیل سے ذکر آیا ہے کہ اگر سختی کرنی پڑے تو اصلاح کی غرض سے سختی ہونی چاہئے ، نہ کہ بدلے لینے کے لئے غصے اور طیش میں آکر۔اور پھر ان کے جذبات کے ساتھ ساتھ ان کے ظاہری جذبات کا بھی خیال رکھو۔ان کی ظاہری ضروریات کا بھی خیال رکھو۔جو عورتیں اپنے گھروں کی حفاظت کرنے والیاں ہیں، اپنے خاوندوں کی وفادار اور اولاد کی صحیح تربیت کرنے والیاں ہیں اُن کے متعلق اللہ تعالیٰ کے رسول کیا فرماتے ہیں۔اس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے۔اسماء بنت یزید انصاریہ سے روایت ہے کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر