اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 144
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 144 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب تو الرِّجَالُ قَوْمُوْنَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء: 35) کہہ کر مردوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ تمہیں جو اللہ تعالیٰ نے معاشرے کی بھلائی کا کام سپر د کیا ہے تم نے اس فرض کو صحیح طور پر ادا نہیں کیا۔اس لئے اگر عورتوں میں بعض برائیاں پیدا ہوئی ہیں تو تمہاری نا اہلی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں۔پھر عورتیں بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں، اب بھی، اس مغربی معاشرے میں بھی ، اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے یہاں تک کہ عورتوں میں بھی، کہ عورت کو صنف نازک کہا جاتا ہے۔تو خود تو کہہ دیتے ہیں کہ عورتیں نازک ہیں۔عورتیں خود بھی تسلیم کرتی ہیں کہ بعض اعضاء جو ہیں، بعض قومی جو ہیں مردوں سے کمزور ہوتے ہیں، مرد کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔اس معاشرے میں بھی کھیلوں میں عورتوں مردوں کی علیحدہ علیحدہ ٹیمیں بنائی جاتی ہیں۔تو جب اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ میں تخلیق کرنے والا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ میں نے کیا بناوٹ بنائی ہوئی ہے مرد اور عورت کی۔اور اس فرق کی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ مرد وعورت پر فضیلت ہے تو تمہیں اعتراض ہو جاتا ہے کہ دیکھو جی اسلام نے مرد کو عورت پر فضیلت دے دی۔عورتوں کو تو خوش ہونا چاہئے کہ یہ کہ کر اللہ تعالیٰ نے مرد پر زیادہ ذمہ داری ڈال دی ہے اس لحاظ سے بھی کہ اگر گھر یلو چھوٹے چھوٹے معاملات میں عورت اور مرد کی چھوٹی چھوٹی چپقلشیں ہو جاتی ہیں، ناچاقیاں ہو جاتی ہیں تو مرد کو کہا کہ کیونکہ تمہارے قولی مضبوط ہیں، تم قوام ہو، تمہارے اعصاب مضبوط ہیں اس لئے تم زیادہ حوصلہ دکھاؤ۔اور معاملے کو حو صلے سے اس طرح حل کرو کہ یہ ناچاقی بڑھتے بڑھتے کسی بڑی لڑائی تک نہ پہنچ جائے۔اور پھر طلاقوں اور عدالتوں تک نوبت نہ آجائے۔پھر گھر کے اخراجات کی ذمہ داری بھی مرد پر ڈالی گئی ہے۔پھر یہ اعتراض کہ مرد کو اجازت ہے کہ عورت کو مارے تو یہ اجازت اس طرح عام نہیں ہے۔خاص حالات میں ہے۔جب عورتوں کا باغیانہ رویہ دیکھو تو پھر سزا دینے کا حکم ہے لیکن اصلاح کی خاطر۔پہلے زبانی سمجھاؤ، پھر علیحدگی اختیار کرو، پھر اگر باز نہ آئے اور تمہاری بدنامی کا باعث بنی رہے تو پھر سختی کی بھی اجازت ہے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایسی مار نہ ہو کہ جسم پر نشان پڑ جائے ، یا کوئی زیادہ چوٹ آئے۔مغلوب الغضب ہو کر نہیں مارنا بلکہ اصلاح کی غرض سے اگر تھوڑی سی سختی کرنی پڑے تو کرنی ہے۔اب عورتیں خود سوچ لیں جو عورت اس حد تک جانے والی ہو ، اپنے فرائض ادا نہ کرنے والی ہو ، اپنی بری صحبت کی وجہ سے بچوں پہ بھی برا اثر ڈال رہی ہو اور ان میں