اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 127
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 127 جلسہ سالانہ کینیڈ 20041 مستورات سے خطاب عورتوں سے جو بازاری قسم کی ہوں یا خیالات کو گندہ کرنے والی ہوں ان سے بھی پردہ کرو۔ان سے بھی بچنے کا حکم ہے۔اس لئے احتیاط کریں اور ایسی مجلسوں سے بچیں۔لباس کا پردہ پھر لباس کا پردہ ہے۔جب برقعہ پہنیں ، یا حجاب لیں یا سکارف لیں یا دو پٹہ پہنیں یا نقاب لیں جو بھی لے رہی ہوں تو بال چھپے ہوئے ہونے چاہئیں۔بال نظر نہیں آنے چاہئیں، ماتھا سامنے سے ڈھکا ہوا ہونا چاہئے۔سامنے کم از کم ٹھوڑی تک کپڑا ہونا چاہئے۔منہ اگر نگا ہے تو میک اپ نہیں ہونا چاہئے۔بعض پیشوں میں یا کام میں منہ تنگا کرنا پڑ جاتا ہے، بعض مجبوریاں ہوتی ہیں۔کوئی بیمار ہے، کسی کو سانس ٹھیک نہیں آرہا تو منہ ننگا کیا جا سکتا ہے لیکن پھر اس طرح بناؤ سنگھار بھی نہیں ہونا چاہئے۔سکولوں اور کالجوں میں بھی لڑکیاں جاتی ہیں اگر کلاس روم میں پردہ ، سکارف لینے کی اجازت نہیں بھی ہے تو کلاس روم سے باہر نکل کر فورا لینا چاہئے۔یہ دو عملی نہیں ہے اور نہ ہی یہ منافقت ہے۔اس سے آپ کے ذہن میں یہ احساس رہے گا کہ میں نے پردہ کرنا ہے اور آئندہ زندگی میں پھر آپ کو یہ عادت ہو جائے گی۔اور اگر چھوڑ دیا تو پھر چھوٹ بڑھتی چلی جائے گی اور پھر کسی بھی وقت پابندی نہیں ہوگی۔پھر وہ جو حیا ہے وہ ختم ہو جاتی ہے۔پھر اپنے عزیز رشتہ داروں کے درمیان بھی جب کسی فنکشن میں یا شادی بیاہ وغیرہ میں آئیں تو ایسا لباس نہ ہو جس میں جسم ایٹر یکٹ (Attract) کرتا ہویا اچھا لگتا ہو یا جسم نظر آتا ہو۔آپ کا نقدس اسی میں ہے کہ اسلامی روایات کی پابندی کریں اور دنیا کی نظروں سے بچیں۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔اور انہوں نے باریک کپڑے پہنے ہوئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض کیا۔یعنی ادھر ادھر ہونے کی کوشش کی اور فرمایا: اے اسماء! عورت جب بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے تو یہ مناسب نہیں کہ اس کے منہ اور ہاتھ کے علاوہ کچھ نظر آئے۔اور آپ نے اپنے منہ اور ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے یہ بتایا۔(ابوداؤد کتاب اللباس باب فيما تبدى المرأة من زينتها)