اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 126

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 126 جلسہ سالانہ کینیڈ 2004 مستورات سے خطاب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ بکریوں کو شیروں کے آگے ڈالنا ہے تو یہ اسی طرح ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔آئے دن یہ قصے اخبار میں پڑھنے کو ملتے ہیں اور دیکھنے کو بھی ملتے ہیں۔اس لئے کسی بھی قسم کے کمپلیکس (Complex) میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔اور اگر کوئی کمپلیکس ہے تو اپنے دماغ سے نکال دیں اور اپنی پاکدامنی کی خاطر قر آنی حکم پر عمل کریں۔اسی میں آپ کی عزت ہے اور اسی میں آپ کا وقار ہے۔ایک جگہ فرمایا کہ یہ بھی دو طرح کے گروپ بن گئے ہیں ایک تو یہ کہتا ہے کہ پردہ اس سختی سے کرو کہ عورت کو گھر سے باہر نہ نکلنے دو۔اور دوسرا یہ ہے کہ اتنی چھوٹ دے دو کہ سب کچھ ہی خلط ملط ہو جائے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : اسلام نے جو یہ حکم دیا ہے کہ مرد عورت سے اور عورت مرد سے پردہ کرے اس سے غرض یہ ہے کہ نفس انسان پھسلنے اور ٹھوکر کھانے کی حد سے بچار ہے۔کیونکہ ابتداء میں اس کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ بدیوں کی طرف جھکا پڑتا ہے اور ذرا سی بھی تحریک ہو تو بدی پر ایسے گرتا ہے جیسے کئی دنوں کا بھوکا آدمی کسی لذیذ کھانے پر۔یہ انسان کا فرض ہے کہ اس کی اصلاح کرے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 106 جدید ایڈیشن) تو اس میں مزید فرما دیا کہ نفس کو پھسلنے سے بچانے کے لئے پردہ کرو تو اس میں صرف برقعہ یا حجاب کام نہیں آئے گا۔اگر آپ برقعہ پہن کر مردوں کی مجلسوں میں بیٹھنا شروع کر دیں، مردوں سے مصافحے کرنا شروع کر دیں تو پردہ کا تو مقصد فوت ہو جاتا ہے۔اس کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔پردہ کا مقصد تو یہ ہے کہ نامحرم مرد اور عورت آپس میں کھلے طور پر میل جول نہ کریں ، آپس میں نہ ملیں ، دونوں کی جگہیں علیحدہ علیحدہ ہوں۔اگر آپ اپنی سہیلی کے گھر جا کر اس کے خاوند یا بھائیوں یا اور رشتہ داروں سے آزادانہ ماحول میں بیٹھی ہیں۔چاہے منہ کو ڈھانک کے بیٹھی ہوتی ہیں یا منہ ڈھانک کر کسی سے ہاتھ ملا رہی ہیں تو یہ تو پردہ نہیں ہے۔جو پردے کی غرض ہے وہ تو یہی ہے کہ نا محرم مرد عورتوں میں نہ آئے اور عورتیں نا محرم مردوں کے سامنے نہ جائیں۔ہر ایک کی مجلسیں علیحدہ ہوں۔بلکہ قرآن کریم میں تو یہ بھی حکم ہے کہ بعض ایسی