اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 8
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 8 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب بھی علیحدہ کر دو۔چاہے جو مرضی مجبوری ہو بہر حال بچوں کو اس عمر میں علیحدہ سونا چاہیئے۔اب ان کو علیحدہ سلاؤ بہت ساری بیماریوں سے، بہت سی قباحتوں سے بچوں کو محفوظ کرلو گے۔ایک حیا، ایک حجاب کا شعوران میں پیدا ہوگا۔اور یہ بات پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ حیا بھی ایمان کا حصہ ہے۔تو نماز کی اہمیت کے بارہ میں ذکر ہورہا ہے کہ کب بچوں کو عادت ڈالنی چاہئے اب اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا ایک اقتباس سناتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ایک خرابی تو یہ ہے کہ اور تو ساری باتیں بچپن میں سکھانے کی خواہش کی جاتی ہے مگر دین کے متعلق کہتے ہیں کہ بچہ بڑا ہوکر سیکھ لے گا ، ابھی کیا ضرورت ہے۔بچے نے ابھی ہوش بھی نہیں سنبھالی ہوتی اور ڈاکٹر منع کرتا ہے کہ ابھی اسے پڑھنے نہ بھیجو گر ماں باپ اسے سکول بھیج دیتے ہیں۔ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ سال جو اس کے ہوش میں آنے کے ہیں اُن میں بھی کچھ نہ کچھ پڑھ ہی لے۔مگر نماز کے لئے جب وہ بلوغت کے قریب پہنچ جاتا ہے ، تب بھی یہی کہتے ہیں ابھی بچہ ہے بڑا ہو کر سیکھ لے گا۔اگر یہ کہا جائے کہ بچے کو نماز کے لئے جگاؤ تو کہتے ہیں نہ جگاؤ ، اس کی نیند خراب ہوگی۔لیکن اگر صبح امتحان کے لئے انسپکٹر نے آنا ہو تو ساری رات جگائے رکھیں گے۔گویا انسپکٹر کے سامنے جانے کا تو اتنا فکر ہوتا ہے مگر یہ فکر نہیں ہوتا کہ خدا کے حضور جانے کے لئے بھی جگا دیں۔تو بچے کو بچپن میں ہی دین سکھانا چاہئے۔جولوگ بچوں کو بچپن میں دین نہیں سکھاتے تو ان کے بچے بڑے ہو کر بھی دین نہیں سیکھتے۔مگر مصیبت یہ ہے کہ دنیا کے کاموں کے لئے جو عمر بلوغت کی سمجھی جاتی ہے، دین کے متعلق نہیں سمجھی جاتی۔بچپن میں بچہ اگر چیزیں خراب کرے تو اسے ڈانٹا جاتا ہے لیکن اگر خدا کے دین کو خراب کرے تو کچھ نہیں کہا جاتا۔پس جب تک ماں باپ یہ نہ سمجھیں گے کہ دین سیکھنے کا زمانہ بچپن ہے۔اور جب تک والدین نہ سمجھیں کہ ہمارا اثر بچپن ہی میں بچوں پر پڑسکتا ہے، تب تک بچے دیندار نہیں بن سکیں گے۔اور پھر جب تک عورتیں بھی مردوں کی ہم خیال نہ بن جائیں گی،