اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 7
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 7 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب بچپن سے اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کریں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ عبادالرحمن بنا ئیں۔بچپن سے اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کر یں۔جب ذرا بات سمجھنے لگ جائیں تو جب بھی کوئی چیز دیں ابھی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں تو یہ کہہ کر دیں کہ یہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے دی ہے، اللہ میاں نے دی ہے۔شکر کی عادت ڈالیں۔پھر آہستہ آہستہ سمجھائیں کہ جو چیز مانگنی ہے اللہ میاں سے مانگو۔پھر نمازوں کی عادت بچپن سے ہی ڈالنی ضروری ہے۔آج کل بعض محنتی مائیں اپنے بچوں کو پانچ ساڑھے پانچ سال کی عمر میں قرآن شریف ختم کروا لیتی ہیں۔اکثریت ایسی ماؤں کی ہے کہ سکول تو بچے کو ساڑھے تین چار سال کی عمر میں بھیجنے کی خواہش کرتی ہیں اور بھیج بھی دیتی ہیں اور بچے اس عمر میں فقرے بنا بھی لیتے ہیں اور لکھ بھی لیتے ہیں لیکن نماز اور قرآن سکھانے اور پڑھانے کے متعلق کہو تو کہتے ہیں کہ ابھی چھوٹا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ کس عمر میں آپ بچے کونماز پڑھنے کے لئے کہیں اور سکھائیں۔ہشام بن سعد سے روایت ہے کہ حماد بن عبد اللہ بن خبیر جہنی کے گھر گئے۔انہوں نے اپنی بیوی سے دریافت کیا کہ بچہ کب نماز پڑھنی شروع کرے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے ایک آدمی نے بتایا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ امر دریافت کیا گیا تو حضور نے فرمایا کہ بچہ جب اپنے دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ میں تمیز کرنا جان لے تو اسے نماز کا حکم دو۔(سنن ابوداؤد كتاب الصلواة باب متى يؤمر الغلام بالصلوة) آج کل تو بچہ چار پانچ سال کی عمر میں تمیز اور فرق کر لیتا ہے۔پھر ایک حدیث ہے۔حضرت عمر و بن شعیب سے مروی ہے کہ اپنی اولا د کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو۔پھر دس سال کی عمر تک انہیں اس پر سختی سے کار بند کرو۔نیز ان کے بستر الگ الگ بچھاؤ۔(سنن ابی داؤد کتاب الصلواة باب متى يؤمر الغلام بالصلوة) اب یہاں اس حدیث میں تربیت کا ایک اور اہم نکتہ بھی بتا دیا کہ نماز کی ادائیگی کا حکم دو تو بچے اب ایسی عمر میں پہنچ رہے ہیں جہاں بچپن سے نکل کر آگے جوانی میں قدم رکھنے والے ہیں تو ان کے بستر