اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 9
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 9 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب بچے دیندار نہیں ہوسکیں گے۔کیونکہ مرد ہر وقت بچوں کے ساتھ نہیں ہوتے۔بچے زیادہ تر ماؤں کے ہی پاس ہوتے ہیں۔اور دیکھا گیا ہے کہ دین دار مائیں بھی بچوں کو دین سکھانے میں سستی کر جاتی ہیں۔نماز کا وقت ہو جائے اور بچہ سو رہا ہو تو کہتی ہیں ابھی اور سولے۔پس جب تک ماؤں کے ذہن نشین نہ کریں کہ بچوں کی دینی تربیت بچپن میں ہی کی جاسکتی ہے، اس وقت تک ہرگز کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ بچوں کی دینی تربیت بچپن میں ہی کرو اور بچپن میں ہی ان کو دین سکھاؤ تا کہ وہ حقیقی دیندار بنیں۔“ الأزهار لذوات الخمار صفحه 127-128) انتہائی بچپن میں نماز کے طریق سکھانے کے بارہ میں ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ کے گھر رات گزاری۔رات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوئے۔میں بھی حضور کے ساتھ حضور کی بائیں جانب کھڑا ہوا۔حضور نے مجھے سر سے پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا۔(صحیح بخارى كتاب الأذان) اب یہ نہیں کہا کہ کیوں میرے ساتھ کھڑے ہوئے۔ساتھ یہ بھی تاکید کر دی کہ اگر دو آدمی ہوں تو امام کے ساتھ دوسرا دائیں طرف کھڑا ہو۔پھر ایک اور روایت ہے۔ابو یعقوب روایت کرتے ہیں کہ میں نے مصعب بن سعد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے باپ کے پہلو میں نماز پڑھی تو رکوع میں جاتے ہوئے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ملا کر اپنے رانوں کے درمیان رکھ لیا۔اس پر میرے والد نے ایسا کرنے سے منع کیا اور انہوں نے بتایا کہ ہم ایسا کرتے تھے تو ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا گیا تھا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھیں۔(صحیح بخارى كتاب الأذان باب وضع الكف على الركب في الركوع) اب یہ بھی انتہائی بچپن میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں سکھانے والی جو بچوں کو سکھانی چاہئیں۔