اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 6

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 6 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب تو وہ شیطان اور جذبات نفس سے الگ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ خدا کی راہ میں جان تک کے دینے میں بھی دریغ نہ کرے۔اگر جاں شاری سے دریغ کرتا ہے تو خوب جان لے کہ وہ سچا مسلم نہیں ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ بے حد اطاعت ہو اور پوری عبودیت کا نمونہ دکھاوے یہاں تک کہ آخری امانت جان بھی دیدے۔اگر بخل کرتا ہے تو پھر سچا مومن اور مسلم کیسے ٹھہر سکتا ہے؟“ حضور فرماتے ہیں: ( ملفوظات جلد سوم، جدید ایڈیشن ، صفحہ 601) ” میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ابتدا میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو ان کو تنبیہ نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔۔۔یا درکھو کہ اس کا ایمان درست نہیں ہو سکتا جو اقرب تعلقات کو نہیں سمجھتا۔جب وہ اس سے قاصر ہے تو اور نیکیوں کی امید اُس سے کیا ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے : رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان:75) یعنی خدا تعالیٰ ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما دے۔اور یہ تب ہی میسر آسکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عبادالرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر شے پر مقدم کرنے والے ہوں اور آگے کھول کر کہہ دیا وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا۔اولا داگر نیک اور متقی ہو تو ان کا امام ہی ہو گا۔اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 562-563 جدید ایڈیشن)