اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 5

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 5 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب اولاد کی خواہش صرف نیکی کے اصول پر ہونی چاہیے:۔تو غرض مطلب یہ ہے کہ اولاد کی خواہش صرف نیکی کے اصول پر ہونی چاہئے۔اس لحاظ سے اور خیال سے نہ ہو کہ وہ ایک گناہ کا خلیفہ باقی رہے۔خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے کبھی اولاد کی خواہش نہیں ہوئی تھی، حالانکہ خدا تعالیٰ نے پندرہ یا سولہ برس کی عمر کے درمیان ہی اولا د دے دی تھی۔یہ سلطان احمد اور فضل احمد قریباً اسی عمر میں پیدا ہو گئے تھے۔اور نہ کبھی مجھے یہ خواہش ہوئی کہ وہ بڑے بڑے دنیا دار بنیں اور اعلیٰ عہدوں پر پہنچ کر مامور ہوں۔غرض جو اولاد معصیت اور فسق کی زندگی بسر کرنے والی ہو اس کی نسبت تو سعدی کا یہ فتویٰ ہی صحیح معلوم ہوتا ہے: که پیش از پدر مُرده به ناخلف۔اولاد کی صحیح طور پر تربیت کریں:۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ( ملفوظات جلد اول ، جدید ایڈیشن ، صفحہ 562) پھر ایک اور بات ہے کہ اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالیٰ کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں۔نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتب تربیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد اول، جدید ایڈیشن ، صفحہ 562) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: ولا دتو نیکو کاروں اور ماموروں کی بھی ہوتی ہے۔ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولا د بھی دیکھو کس قدر کثرت سے ہوئی کہ کوئی رگن نہیں سکتا۔مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اُن کا خیال اور طرف تھا ؟ بلکہ ہر حال میں خدا ہی کی طرف رجوع تھا۔اصل اسلام اسی کا نام ہے جو ابراہیم کو بھی کہا کہ اسلم۔جب ایسے رنگ میں ہو جاوے