اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 663

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۶۶۳ خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء شہیدہ کے گھر چلو۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زندگی میں ہی اُن کو شہیدہ کہا کرتے تھے۔ایک روایت انس بن مالک کی مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان کے گھر جایا کرتے تھے۔یہ حضرت عبادہ بن صامت کی بیوی تھیں۔ایک دن جب آپ وہاں تشریف لے گئے تو حضرت ام حرام نے کھانا پیش کیا۔اس کے بعد آرام سے لیٹ گئے اور حضور کی آنکھ لگ گئی۔ام حرام حضور کا سر سہلانے لگیں۔کچھ دیر کے بعد حضور ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔حضرت ام حرام نے پوچھا۔حضور کیوں ہنس رہے ہیں؟ حضور نے فرمایا میں نے خواب میں اپنی امت کے کچھ لوگ دیکھے ہیں جو اللہ کے رستے میں جہاد کے لئے نکلے ہیں اور بحری جہازوں میں سوار تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں جیسے بادشاہ ہوں۔حضرت ام حرام نے عرض کیا کہ حضور دُعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی اس گروہ میں شامل کر لے۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دُعا کی اور پھر آپ سو گئے۔پھر ہنتے ہوئے بیدار ہوئے تو ام حرام نے عرض کیا حضور اب کیوں ہنس رہے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب پھر میں نے امت کے کچھ مجاہد دیکھے ہیں جو بحری مہم کے لئے جارہے ہیں۔حضرت ام حرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان غازیوں میں مجھے بھی شامل کرے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پہلے گروہ میں شامل ہوگی۔اب دیکھیں کس طرح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بہت بعد امیر معاویہ کے زمانے میں یہ خواب حرف بہ حرف پوری ہوئی۔حضرت ام حرام قبرص کی بحری مہم میں شامل تھیں لیکن جب جہاز سے اتر کر جزیرے میں داخل ہوئیں اور سواری پر سوار ہونے لگیں تو گر گئیں اور اسی چوٹ سے شہید ہوگئیں۔ایک روایت ابوداؤد میں حضرت ابی اُسید انصاری کی مروی ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد سے باہر جس وقت عورتیں گلی میں مردوں کے ساتھ مل کر بھیٹر کی شکل میں چل رہی تھیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ خواتین راستہ کے ایک طرف ہو کر یعنی فٹ پاتھ پر چلیں۔یہ جو رواج ہے یہ بھی کیسی پیاری سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے میں جاری فرما دی تھی۔یہ مناسب نہیں کہ وہ راستہ کی روک بن جائیں۔ابواسید بیان کرتے ہیں اس کے بعد عورتیں سڑک کے ایک طرف ہو کر دیوار کے ساتھ ساتھ ہو کر چلا کرتی تھیں۔بعض اوقات تو اس قدر دیوار کے ساتھ لگ کر چلتی تھیں کہ ان کے کپڑے دیوار سے اٹک اٹک جاتے تھے۔