اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 662
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۶۲ خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء خرید لی۔اس پر میں نے دکاندار سے کہا یہ تم نے کیا تماشہ کیا ہے۔مجھے اور بتائی عورت کو اور بتائی یعنی بیوی کو اور بتائی۔اس نے کہا کہ بات دراصل یہ ہے کہ چونکہ عموماً عورتیں سودا کرتی ہیں اس لئے میں نے زیادہ بتا دی تھی پھر اس نے وہ زائد پیسے واپس کر دیئے۔حضرت عائشہ صدیقہ کی ایک روایت ابوداؤ د کتاب الجنائز میں ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے کہا مجھے قرآن کریم کی ایک سخت ترین آیت کا علم ہے۔آپ نے فرمایا عائشہ وہ کون سی۔میں نے عرض کیا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَبِ (النساء : ۱۲۴) کہ جو کوئی برائی کرے گا اس سے بدلہ لیا جائے گا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! کیا تجھے معلوم نہیں کہ مسلمان کو کوئی تکلیف یا مصیبت خواہ کانٹا لگنے سے ہی کیوں نہ ہو وہ بُرے عمل کی مکافات ہوتی ہے اور جس کا حساب لیا گیا وہ تو عذاب میں مبتلا ہوا۔یعنی ان سب تکلیفوں کے باوجود بھی اگر کسی کا حساب لیا گیا تو وہ پھر عذاب میں مبتلا ہوا۔حضرت عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا تو فرمان ہے۔فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا (الانشقاق : 9) کہ تم سے آسان حساب لیا جائے گا۔اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ ! یہ تو صرف خدا کے سامنے حساب کا پیش ہونا ہے ورنہ جس کا با ضابطہ حساب لیا گیا وہ تو مارا گیا۔یعنی آسان حساب سے ایک مراد یہ بھی ہے کہ حساب لیا ہی نہ جائے۔ایک روایت حضرت ام ورقہ بنت عبد اللہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر میں شرکت کی اجازت مانگی کہ مریضوں کی تیماداری کروں گی ممکن ہے کہ اس سلسلہ میں شہادت نصیب ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم گھر میں رہو خدا تمہیں شہادت عطا فرمائے گا۔آپ کیونکہ قرآن پڑھی ہوئی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عورتوں کا امام بنایا ہوا تھا اس لئے درخواست کی کہ ایک مؤذن بھی مقرر فرمائیں۔چنانچہ مؤذن اذان دیتا اور عورتوں کی امامت آپ کرایا کرتی تھیں۔رات کو قرآن پڑھا کرتیں۔انہوں نے ایک لونڈی اور ایک غلام کو مدبر بنایا یعنی اس شرط پر آزادی کا وعدہ کیا کہ میرے مرنے کے بعد تم دونوں آزاد ہو۔ان بدبختوں نے اس وعدے سے ناجائز فائدہ اُٹھانا چاہا اور رات کو ایک چادر ڈال کر آپ کا گلا گھونٹ دیا۔صبح کو حضرت عمرؓ نے لوگوں سے پوچھا کہ آج خالہ کے پڑھنے کی آواز نہیں آئی۔معلوم نہیں کیسی ہیں۔مکان میں گئے تو دیکھا کہ ایک چادر میں لپٹی پڑی ہیں۔نہایت افسوس ہوا اور فرمایا خدا اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ