اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 625
حضرت خلیفتہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۲۵ خطاب ۳/ جون ۲۰۰۰ء ان کے دلوں میں ابھی ایمان راسخ نہیں ہوا۔انہیں میں متنبہ کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو طعن و تشنیع کے ذریعہ تکلیف نہ دیں اور اُن کے عیبوں کا کھوج نہ لگاتے پھریں۔اب یہ جو عادت ہے یہ مردوں میں بھی ہے مگر عورتوں میں نسبتاً زیادہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کا کھوج لگاتی پھرتی ہیں کہ اس میں کیا نقص ہے؟ اس کی ذاتی زندگی کی خامیاں تلاش کرتی پھرتی ہیں تو فرمایا کہ عیبوں کا کھوج نہ لگاتے پھریں ورنہ یا درکھیں کہ جو شخص کسی کے عیب کی جستجو میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اندر چھپے ہوئے عیوب کو لوگوں پر ظاہر کر کے اس کو ذلیل ورسوا کر دیتا ہے۔تو دوسروں کی پردہ دری کرتے کرتے اپنی پردہ دری نہ کروا بیٹھیں۔یہ بہت ہی خطرناک تنبیہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی۔اس کو اچھی طرح یاد رکھیں اس سے چمٹ رہیں۔اس کو ہرگز کبھی بھی فراموش نہ ہونے دیں یعنی اپنے آپ کو فراموش نہ ہونے دیں کہ آپ لوگوں کی خیر خواہی چاہتی ہیں۔ان کے عیوب کو تلاش نہ کریں، تلاش کریں یا خود بخود وہ ظاہر ہو جائیں آپ پر تو ان کی پردہ پوشی کیا کریں ورنہ پھر اپنے بارے میں ڈریں کہ آپ کے اندر بھی کتنے عیب ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ستاری کی وجہ سے چھپے ہوئے ہیں۔ایک حدیث مسلم کتاب العلم سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی نیک کام اور ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو اتنا ہی ثواب ہے جتنا ثواب اس بات پر عمل کرنے والے کو ملتا ہے۔“ تو عام نیکی کی تلقین کرنا بغیر دلیلوں کے بغیر حجتوں کے ہر شخص میں کوئی نہ کوئی نیکی کی ایسی بات ہوتی ہے جسے وہ دوسروں تک پہنچا سکتا ہے تو جو اس پر عمل کرے گا اس کا ثواب بھی اس بات کرنے والے کو ملے گا لیکن جو شخص کسی گمراہی اور برائی کی طرف بلاتا ہے اس کو بھی اسی قدر گناہ ہوتا ہے جس قدر اس برائی کے کرنے والے کو ہوتا ہے اور جو برائی کرنے والا ہے اس کے گناہ کی پاداش میں کمی نہیں آتی۔بخاری کتاب البیوع سے ایک روایت حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مروی ہے کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اور آپ کا یہ فرمان اچھی طرح یاد ہے کہ شک میں ڈالنے والی باتوں کو چھوڑ دو۔بعض واضح طور پر بات کسی کے خلاف نہیں کرتے مگر اس طرح اس انداز سے چُھپا چھپا دبا دبا ذکر کر دیتے ہیں کہ لوگوں کو شک پڑ جاتا ہے اور یہ شک ہے پھر وہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور شک میں