اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 626 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 626

حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۲۶ خطاب ۳/ جون ۲۰۰۰ء مبتلا ہونا یا مبتلا کرنا ایک بہت بری بات ہے۔یقین کو اختیار کرو، جس بات کا یقین ہے وہی بات کرو اور جو شک والی بات ہے اُس سے پر ہیز کرو۔یقینا سچائی اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ اضطراب اور پریشانی کا موجب ہوتا ہے“ ایک اور حدیث مسلم کتاب البر سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لی گئی ہے آپ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ! بدترین آدمی تم اسے پاؤ گے جو دو منہ رکھتا ہے۔ایک بات کہیں کہہ دی دوسری بات کہیں اور کہہ دی اور ان دونوں باتوں میں اختلاف ہو تو اس سے یہ مراد ہے کہ دو منہ رکھتا ہے۔خود ہی اس کی تشریح فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا ان کے پاس آکر کچھ کہتا ہے دوسروں کے پاس جا کر کچھ کہتا ہے۔بہت سے اس دنیا میں فتنے اسی وجہ سے پھیلتے ہیں کہ لوگ دومنہ رکھتے ہیں۔ایک حدیث مختصر صحیح بخاری کتاب الادب سے لی گئی ہے۔حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : چغل خور جنت میں نہیں جا سکے گا۔“ اس لئے چغلی کرنا بہت سی نیکیوں کو کھا جاتا ہے اور خود اپنی ہی نیکیوں کو بھسم کر دیتا ہے تو بہت چھوٹی سی لذت دنیاوی لذت، باتوں کی لذت انسان کو اپنے سارے اعمال کی خوبیوں اور اُن کی جزا سے محروم کر دیتی ہے۔اور یہ مشہور جو محاورہ ہے یہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی سب سے پہلے استعمال کیا تھا۔ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو انسان کو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ میں پڑا ہوا شہتیر وہ بھول جاتا ہے۔“ یہ ایک محاورہ ہے جو سب دنیا میں پھیل چکا ہے۔حقیقت یہی ہے انسان دوسرے کی آنکھ میں چھوٹا سا نقص بھی ہو تو اس کو دیکھ لیتا ہے اور اپنے اندر کا بھاری نقص بھی جو شہتیر کے برابر ہو گویا جو آنکھ میں پڑا ہوا وہ بھی اس کو دکھائی نہیں دیتا۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس بنیادی خطاب کے بعد جس میں خیر ہی خیر مضمر ہے ہمارے لئے اور جسے اختیار کرنا سب کے لئے ضروری ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت لیکن خصوصیت سے کیونکہ میرا خطاب خواتین سے ہے اس لئے میں خواتین سے تعلق رکھنے والے بعض