اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 624
حضرت خلیفتہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۲۴ خطاب ۳/ جون ۲۰۰۰ء اللہ علیہ والہ وسلم نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اللہ اس شخص کو سر سبز و شاداب رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے اسی طرح آگے پہنچایا کیونکہ بہت سارے ایسے لوگ جنہیں بات پہنچائی جاتی ہے وہ خود سنے والے سے زیادہ اسے یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔تین امور کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ کی خاطر کام میں خلوص نیت ہو یہ بہت ضروری ہے۔ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی دل میں ہو اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا۔چنانچہ یہ فرمایا گیا کہ بہت سارے ایسے لوگ ہیں جنہیں بات پہنچائی جاتی ہے وہ آگے پہنچائیں ! س میں بڑی حکمت یہ ہے کہ بعض دفعہ لوگ جو بات خود سنتے ہیں اس کو محفوظ تو کر لیتے ہیں لیکن اس کا مطلب اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے آگے جن کو پہنچائی جاتی ہے وہ اس کا مطلب یا اس میں پنہاں خطرات کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اعلان کر دو۔مَنْ قَالَ لَا إِله إِلا اللَّهُ دَخَلَ الجَنَّةَ کہ جس نے بھی لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔حضور کے ارشاد پر ابو ہریرہ یہی پیغام اونچی آواز سے گلیوں میں پڑھتے پھر رہے تھے کہ حضرت عمرؓ کا سامنا ہوا۔آپ نے کہا یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سب غیر حاضروں کو یہ بات پہنچاؤ۔آپ نے (حضرت عمر کی ایسی طبیعت تھی ذرا غصہ والی ) اُن کو گریبان سے پکڑ لیا اور گھسیٹتے ہوئے واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس لے گئے اور عرض کی یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا تھا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے ہی فرمایا تھا یعنی میں نے ہی کہا تھا تو حضرت عمرؓ نے اس وقت یہ توجہ دلائی حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کہ عامتہ الناس اس بات کو سمجھ نہیں سکیں گے۔یہ بات سو فیصد درست ہے لیکن لوگ اس کا مطلب اور نکال لیں گے عمل چھوڑ دیں گے اور صرف لا الہ الا اللہ کہتے پھریں گے یہ سمجھ کر کہ ان کی جنت میں جانے کے لئے بس اتنی ہی بات کافی ہے۔اس لئے آپ بھی جو میرے خطاب کو سن رہی ہیں آپ سب خواتین بھی آگے اُن باتوں کو جو آپ کے دل پر کچھ اثر کریں یا نہ کریں جو بھی سنیں کوشش کریں کہ اُن کو دوسروں تک پہنچاسکیں اور اپنے خاوندوں ، بہنوں ، بھائیوں سب تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کریں۔ایک اور حدیث حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ منبر پر کھڑے ہو کر آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے با آواز بلند فرمایا کہ اے لوگو ! تم میں سے بعض بظاہر مسلمان ہیں لیکن