اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 546
حضرت خلیفہ مسح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۴۶ خطاب ۶ ا ر ا گست ۱۹۹۷ء امتہ الحفیظ بیگم بہت گہرا علم رکھنے والی تھیں۔انسان حیران رہ جاتا تھا کہ تاریخ کا علم، صحافت کا علم ، ادب کا علم ، شاعری کا علم غرضیکہ دین کی تفاصیل کا علم اور کسی مکتب میں تعلیم حاصل نہیں کی۔وہ مکتب جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کے لئے اور سب دنیا کے لئے جاری کیا ہے اس مکتب میں ایک معلمہ کا نام عائشہ بھی تھا اور آپ نے معلمہ کا حق ایسا ادا کیا کہ آپ کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے آدھا علم عائشہ سے سیکھا ہے۔اب آپ اسلامی کتب اٹھا کر دیکھ لیں ، اسلامی فقہ اُٹھا کر دیکھ لیں جہاں جہاں بھی عائشہ کا ذکر ملے گا جہاں کسی حدیث پر آپ کا تبصرہ ملے گا اتنا گہرا ، اتنا فراست سے پر ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔خاتم النبین والا مضمون ہے۔مدینے کی گلیوں میں ایک آدمی آوازیں دے رہا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خاتم النبین قرار دے رہا تھا گویا ان معنوں میں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے ا (لَا نَبِيَّ بَعْدِی ) والی حدیث پڑھ رہا تھا اور یہ ظاہر کر رہا تھا کہ یہ مضمون ہے جو خاتم کا مضمون ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔حضرت عائشہ نے اپنے گھر میں یہ آواز سنی اور باہر نکل کر اسے بلایا اور کہا یہ تو کہو کہ حمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خاتم النبین ہیں مگر لا نبی بعدی نہ کہو یعنی حضرت عائشہ صدیقہ کے نزدیک خاتم کا مضمون حقیقت میں لانبی بعدی کے مضمون سے ٹکرا رہا ہے اور لانبی بعدی کی حدیث کو خاتم کے تابع رکھنا ضروری ہے۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو غلط مفہوم جاری ہوں گے۔حضرت عائشہ صدیقہ کی یہ حدیث ہے بعد میں آنے والے بڑے بڑے علماء نے پڑھی اور لکھی اور اس کے حل تلاش کئے اور آخر یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہو گئے کہ حضرت عائشہ کی فراست نے جس مضمون کو پایا تھا وہی حقیقت ہے۔آپ کے نزدیک لانبی بعدی کا مطلب محض یہ بنتا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مخالف کوئی نبی نہیں آئے گا۔آپ کی شریعت کے تابع ہوگا ، آپ کی سنت کے تابع ہوگا اور وہ نبی جو آپ کے شریعت اور سنت کے تابع ہو اس پر بعدی کا لفظ اطلاق نہیں پاسکتا۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں لانبی بعدی سے مراد یہ ہے کہ مجھے چھوڑ کر مجھ سے ہٹ کر میرے مخالف ، میرے فیض سے فیض یافتہ نہ ہونے کے باوجود کوئی شخص نبی نہیں بن سکتا۔پس حضرت عائشہ صدیقہ کی فراست اتنی گہری ہے کہ آج تک وہ اثر انداز ہے اور اس دور میں خصوصیت سے ہم پر اثر انداز ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ کی یہ حدیث ہے جو ختم نبوت کی حقیقت کے معنی بیان کرنے میں سب سے زیادہ جماعت احمدیہ کے کام آتی ہے۔