اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 547 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 547

حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطالبات ۵۴۷ خطاب ۶ ارا گست ۱۹۹۷ء میرا یہ منشاء تھا کہ آج کے اجلاس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج کی باتیں کروں اور اسی پہلو سے اُن آیات کا انتخاب کیا گیا تھا آپ کے لئے جس میں ازواج مطہرات کے متعلق قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے۔اے نبی کی بیو یو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔اب میں آپ کو یہ دکھا رہا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیویاں عام عورتوں کی طرح نہیں تھیں اور عظیم قربانی کرنے والی تھیں اور ہمیشہ کے لئے وہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے نمونہ بن گئیں۔اگر آپ ازواج مطہرات کو ہی پکڑ بیٹھیں آپ کو پھر کسی اور نسوانی نمونے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ مریم کا نمونہ بھی ان میں شامل تھا اور آسیہ فرعون کا نمونہ بھی ان میں شامل تھا۔غرضیکہ ازواج مطہرات آپ کے سامنے وہ چمکتے ہوئے ماڈل ہیں جن کو ہمیشہ آپ کو سینے سے لگائے رکھنا چاہئے۔حضرت ام سلمہ کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت ام سلمہ وہ مسلم خاتون تھیں جن کو سب سے پہلے ہجرت کی توفیق ملی اور ہجرت حبشہ میں یہ خاتون تھیں جو شامل ہوئیں۔حضرت ام سلمہ کے خاوند زندہ تھے۔ان کے ساتھ آپ ہجرت میں شریک ہوئیں اور پھر ہجرت مدینہ میں وہ تمام مستورات جنہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی ہے ان میں آپ کا پہلا نمبر ہے۔تو دو ہجرتوں میں اول خاتون حضرت ام سلمہ تھیں۔اس پہلو سے آپ کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ حضرت ام سلمہ کی ہجرت کیا تھی۔حضرت ام سلمہ کی ہجرت کسی مال و دولت کی وجہ سے نہیں تھی کوئی ایسی جگہ پانے کی خواہش نہیں تھی کہ جس جگہ پر آپ کو دنیا کے آرام میسر ہوں، مال و دولت نصیب ہو۔آپ کی ہجرت دونوں دفعہ ہمیشہ خدا کے لئے تھی اس لئے خصوصاً جرمنی میں آنے والی خواتین کے لئے خواہ بڑی ہوں یا چھوٹی حضرت ام سلمہ کے حالات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔جب ہجرت حبشہ سے واپسی ہوگئی اور مدینہ کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہجرت فرما گئے تو حضرت ام سلمہ خود یہ بیان کرتی ہیں کہ جس دن ہم نے مدینہ کی طرف روانہ ہونا تھا میں اور میرا خاوند اور میرا بیٹا اونٹ پر سوار ہو کر مکے سے باہر نکلے اس دوران میرے قبیلے کے لوگ پہنچ گئے اور مجھے میرے خاوند کے ساتھ جانے سے روک دیا۔چنانچہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ پیچھے رہ گئی اور میرا خاوند مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔کچھ ہی دیر بعد میرے خاوند کے قبیلے والے آگئے اور میرا بیٹا یہ کہ کر مجھ سے چھین کر لے گئے کہ ہمارا بچہ ہے اگر تمہارے قبیلے والے تمہیں اپنے خاوند کے ساتھ نہیں جانے دیتے تو پھر اس بچے پر بھی تمہارا کوئی حق نہیں یہ ہمارے پاس رہے گا۔چنانچہ آپ اکیلی رہ گئیں۔آپ بیان کرتی ہیں میں ہر روز مکہ سے باہر نکل جاتی تھی ، ریت کے ٹیلوں میں جا کر روتی