اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 545
حضرت خلیلہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۴۵ خطاب ۶ ار اگست ۱۹۹۷ء زنگ گھول دیتی ہے اور ناراضگیاں جب اسی طرح ہوتی چلی جائیں تو رفتہ رفتہ محبت ختم ہو جاتی ہے۔پس حضرت عائشہ کی پیاری باتیں سنتے ہوئے آپ عائشہ کو اپنے دل میں جمانے کی کوشش کریں اور ویسا بننے کی کوشش کریں حضرت عائشہ صدیقہ ایک ایسا ماڈل ہیں جو ہمیشہ کے لئے بنی نوع انسان کی خواتین کے لئے ایک ماڈل رہیں گی اس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔جامع ترمذی میں آپ کے مرتبہ اور بیان کے متعلق یہ آتا ہے کہ حضرت عائشہ کو محض ازواج مطہرات میں سے ہونے کی وجہ سے ہم عزت نہیں دیتے تھے آپ بہت گہرا علم رکھنے والی خاتون تھیں۔کہتے ہیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی حدیث نے ہمارے لئے اشکال پیدا کیا ہو ہمیں کسی مشکل میں ڈالا ہو اس کا کیا مطلب بنتا ہے مگر ہم حضرت عائشہ کے پاس پہنچا کرتے تھے اور عائشہ ایسی ذہین تھیں کہ ہمیشہ اس حدیث کا صحیح مطلب بیان کر دیتی تھیں جو دماغوں اور دلوں کو مطمئن کرنے والا تھا اور ہمارے مسائل کو حل کرتی تھیں۔پس علم کے لحاظ سے بھی خواتین کو عائشہ کا نمونہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔امام زہری جو تابعین کے سرخیل کہلاتے ہیں، تابعین کے صف اول میں شمار کئے جاتے ہیں وہ یہ لکھتے ہیں کہ عائشہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالم تھیں بڑے بڑے صحابہ ان سے پوچھا کرتے تھے عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے قرآن کریم فرائض ، حلال و حرام ، فقہ، شاعری ، طب ، عرب کی تاریخ اور علم نفس کا عالم عائشہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔اب یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ عائشہ صدیقہ نے دنیا کا تو کوئی علم حاصل نہیں کیا تھا۔حضرت عائشہ بے انتہا ذہین تھیں اور عربوں میں جو زبانی تعلیم کا سلسلہ جاری تھا وہ تحریر کی صورت میں پڑھنے کے لئے نہیں ملا کرتا تھا بلکہ زبانی طور پر بڑے بڑے شعراء کے کلام سنائے جاتے تھے ، بڑے بڑے اطباء کی باتیں کی جاتیں تھیں ، بڑے ہنر مندوں کے واقعات بیان کئے جاتے تھے یہ ساری باتیں حضرت عائشہ صدیقہ بچپن سے سنتی رہیں اور ذہن نشین کرتی رہیں اور دل میں جھاتی رہیں۔یہ زبانی تعلیم تھی جس نے آپ کو اتنا بڑا عالم بنا دیا کہ بڑے بڑے صحابہ اور فقہیہ آپ کے علم کے سامنے گردنیں جھکاتے تھے۔تو آپ میں سے وہ خواتین جو زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دین کی تعلیم اور دین کے عرفان کے لئے با قاعدهہ کسی مکتب میں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔اپنے گھر پر بھی آپ بہت اعلی تعلیم حاصل کر سکتی ہیں اور اب تو پڑھائی کا دور ہے۔اس دور میں ہم نے اپنی دو پھوپھیوں کو دیکھا حضرت نواب مبارکہ بیگم ، حضرت نواب