اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 464 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 464

حضرت خلیفہ صیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۶۴ خطاب ۲۷ ؍جولائی ۱۹۹۶ء ہے کہ نہیں یعنی اللہ کا خوف رکھتا ہے کہ نہیں۔اللہ کی محبت کے نتیجے میں اس کی تربیت ہوئی ہے کہ نہیں۔تربیت تقویٰ سے جو ہو یہی اصل تربیت ہے تربیت خدا کی محبت سے جو ہو وہی اصل تربیت ہے اور جو شخص اللہ کی محبت سے تربیت یافتہ ہو اس کا اپنی بیوی سے سلوک اس شخص کے مقابل پر اتنا مختلف ہوتا ہے جو دنیا کی محبت سے تربیت یافتہ ہے اس کی دونوں میں کوئی مثال نہیں دکھائی دیتی۔اس کی مثال حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اپنی ازواج مطہرات سے سلوک ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا حضرت اماں جان سے سلوک ہے۔ایک طرف یہ حالت کہ ہر محبت پر خدا کی محبت غالب اور خدا کی محبت کے سوا گویا ہر دوسری محبت غائب ہو گئی ہے لیکن جب خدا کی محبت میں ڈوب کر محبت کی ہے تو خدا کے انداز میں محبت کی ہے۔اُسی طرح غفور و رحیم ، اسی طرح حلیم ، اسی طرح زیادتیوں کو برداشت کرنے والے۔اگر یہ نہ ہوتا اور خدا ایسا نہ ہوتا تو بنی نوع انسان کی تو اپنے گناہوں کی وجہ سے صف لپیٹ دی جاتی۔بس محبت کی تربیت اور ہے اور دنیا کے رشتوں کے تعلق اور قسم کے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ میں نے یہ مضمون اختیار کیا اور جب تک توفیق ملے گی جب تک میں سمجھوں گا کہ اس مضمون کا کچھ حصہ ابھی باقی ہے میں اس پر خواتین سے خطاب کرتا رہوں گا۔محبت کا مضمون خواتین جیسا کہ میں نے کہا مردوں سے بہتر سمجھتی ہیں اور دنیا میں جہاں کہیں بھی وہ پھیلی ہیں اللہ کی اُن پر نظر ہے اور خدا ان کو دیکھ رہا ہے اور اگر وہ محبت کے تعلق میں یہ احساس پیدا کرلیں کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار یہی فرمایا: ان من يراني (در مشین اردو صفحه ۳۴) پاک ہے وہ جو مجھے دیکھ رہا ہے۔اب سبحان کا کلمہ ایک تو بے اختیار دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی تعریف ہے۔اس کے اور کچھ بھی معنی نہیں سوائے اظہار محبت کے لیکن ایک اور معنی یہ بھی ہے جو اصل معنی ہے کہ وہ جو مجھے دیکھ رہا ہے وہ تو خود ہر برائی سے پاک ہے۔اب اس کے دیکھتے ہی جو ہر برائی سے پاک ہے میں کیسے بدیاں کروں؟ اس کی نظر میں گر جاؤں گا اور اس کی نظر سے بھاگ نہیں سکتا۔یہ محبت کا مضمون اس تربیت کے رنگ میں مسیح موعود علیہ السلام نے ڈھالا اور اپنے آپ کو ہمیشہ خدا کی نظر کے نیچے دیکھا۔اور سبحان“ کہنے سے بار بار مراد یہ تھی کہ میں جانتا ہوں کہ تو ہر برائی