اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 465
حضرت خلیفہ صیح الرابع' کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء سے پاک ہے جس پر تو محبت کی نظر ڈال رہا ہے اس کو بھی پاک کرتا چلا جا۔اس کو بھی اپنا جیسے بنے کی توفیق بخش یعنی انہی صفات میں جن کو بندہ اپنا سکتا ہے۔پس اس پہلو سے اگر آپ اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کریں اور یہ دیکھیں کہ وہ پاک ہے اور یہ مضمون دل سے جاری رکھیں تو آپ جہاں بھی ہوں جس معاشرے میں بھی ہوں وہاں خدا کی نظر آپ کو دیکھ رہی ہوگی۔آپ کا دل اس نظر کا جواب دے رہا ہوگا اور سبحان من برانی کا مضمون ہے جو آپ کی تربیت کے لحاظ سے سب سے اعلیٰ مربی ثابت ہوتا ہے۔اس سے بڑھ کر کوئی مربی نہیں۔ہر حال میں اور دیکھتا کون ہے؟ اپنے گھر میں ماں باپ نہیں دیکھ رہے ہوتے ، بچوں کے دل کی حالت اور ہے ظاہر کی حالت اور ہے ماں باپ کو پتہ ہی نہیں۔وہ سمجھتے ہیں بڑے شریف سلجھے ہوئے بچے ہیں وہ دل میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔ہاں تمہارے سامنے ہیں باہر نکلیں گے تو اپنی کرتو تیں دکھا ئیں گے اور انتظار کرتے ہیں کہ ماں باپ کے سامنے شرافت سے سر جھکا کے بیٹھے باتیں کریں۔ماں باپ گئے تو اچانک دل میں آئی وہ کرنی شروع کر دی اور یہ جو دستور ہے یہ فطرت کا ایک ایسا اظہار ہے جس میں نیکی بدی کا فرق نہیں۔سب اس میں برابر کے شریک ہیں۔جب استاد کے سامنے بچے جب بیٹھتے ہیں ان کا اظہار اور ہوتا ہے، ان کے اطوار اور۔ماں باپ کے سامنے بیٹھے ہوں تو اور اطوار ہوتے ہیں۔میرے سامنے آکر بیٹھتے ہیں جب مجلس میں تو اور انداز ہوتے ہیں۔میں نے ایک بچے کے متعلق ماں باپ سے کہا کہ بہت ہی شریف بچہ ہے ماشاء اللہ۔انہوں نے کہا کہ آپ کے سامنے شریف ہے نا کبھی علیحدہ ہمارے گھر میں آکر دیکھیں مصیبت ڈالی ہوتی ہے تو بچوں کو بھی یہ شعور ہے فطرت کا تقاضا ہے کہ جس کا کچھ احترام دل میں ہو اس کے سامنے سنبھل جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب تک کوئی انسان ہمیشہ کسی محترم آنکھ کے نیچے نہ ہو اس کی تربیت کی نگرانی نہیں ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ راز ہمیں سمجھا دیا کہ ”سبحان من بیرانی ہر بات جو تھی اس کے بعد یہی عرض کیا کہ پاک ہے وہ ذات جو مجھے ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔میرے ظاہر پر بھی نظر ہے، میرے باطن پر بھی نظر ہے، میرے اندر پہ بھی نظر ہے، میرے باہر پہ بھی نظر ہے، ہر حال میں مجھ پر وہ نگاہ رکھتا ہے اور اس مضمون کو آپ نے اپنے حمدیہ اشعار میں ایسے ایسے رنگ میں بیان فرمایا کہ دل اللہ کی محبت میں غرق ہو جاتا ہے اگر آپ ان شعروں میں ڈوب کر ان کا لطف اٹھا ئیں۔کبھی سرسری اور سطحی نظر سے نہ گزریں۔جو آیت میں نے چینی اس مضمون کے لئے وہ بھی دراصل بعینہ یہی بات ہے جو