اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 463 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 463

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۶۳ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء توفیق دے عورتوں کے دل میں خدا کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کروں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون کو جیسے بیان فرمایا ہے۔اس کو کھول کھول کر آپ کے سامنے رکھوں اور بتاؤں کہ محبت وہی ہے جو اللہ کی ہے۔جو لا فانی ہے اور ہر دوسری محبت بے معنی اور بے حقیقت ہے۔وقتی طور پر وہ لذت بخش بھی دے تو ہمیشہ دکھوں پر اس کا انجام ہوتا ہے اور کوئی بھی ایسی محبت نہیں جو انجام کا رلطف چھوڑ جائے کیونکہ ہر محبت نے اس دنیا میں منقطع ہو جاتا ہے۔کئی محبتیں اس طرح منقطع ہوتی ہیں کہ محبت کے رشتے ہوئے مگر کچھ دیر کے بعد خاوند کو بیوی کی اور بیوی کو خاوند کی برائیاں دکھائی دینے لگیں جن پر پہلے نظر نہیں تھی۔پہلے تو وہ احتیاطاً ایک دوسرے سے چھپاتے تھے پھر وہ احتیاطیں اڑ گئیں اور کھلے بندوں پھر وہ عام ہونے لگیں وہ دل کی بیماریاں باہر نکل آئیں۔دل کی برائیاں بدخلقیاں وہ کھل کر سامنے آگئیں اور جو پہلے محبت کے رشتے تھے ان کو ختم کرنا شروع کر دیا۔یہ ایک عام رواج ہے، عام رواج نہیں ایک عام ایک فطرت کا دستور ہے۔جس سے شاذ ہی کوئی مستثناء ہو۔میاں بیوی کی جب نئی نئی شادی ہوتی ہے اس سے پہلے کا دور کچھ اور ہوتا ہے شادی کے ابتدائی دنوں میں کچھ اور ہوتا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد کوئی اور بات ظاہر ہو جاتی ہے وہ پہلے سی بات ہمیشہ آپ قائم نہیں رکھ سکے۔اسی ضمن میں ایک لطیفہ بھی ہے۔ایک شخص بتا رہا تھا کہ شادی سے پہلے میرے اُس عورت سے رسمی تعلقات تھے اس وقت کیا ہوتا تھا، شادی کے بعد ایک مہینے تک کیا ہوتا رہا اور پھر کیا ہوا۔اس نے کہا جو ایک مہینہ کے پہلے تعلقات تھے اس میں تو میں بولا کرتا تھا اور وہ سنا کرتی تھی ، شرما کر سر جھکائے ہوئے میری ہر بات سنتی تھی ایک لفظ نہیں بولتی تھی۔شادی کے بعد ایک مہینہ وہ بولی ہے اور میں نے سنا ہے اور پھر تو ہم بولتے تھے اور محلہ سنتا تھا ہمیں کچھ نہیں پتا تھا کہ ہم کیا کہتے ہیں اور اس شور میں کچھ سنائی نہیں دیتا تھا لیکن سارا محلہ سن رہا ہوتا تھا کیا باتیں ہو رہی ہیں۔یہ ہے تو لطیفہ مگر ہے ایک درد ناک حقیقت اور جن کو خدا نیکی کی محبت عطا کرتا ہے وہی اس سے مستثناء ہیں۔جو نیکی کی محبت کے بغیر رشتے جوڑتے ہیں وہ اس سے مستثناء نہیں ہیں کوئی محبت کی ہے۔تبھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جن سے بڑھ کر رازدان فطرت کبھی کوئی پیدا نہیں ہوا۔نبیوں میں نہ نبیوں سے باہر۔آپ نے فرمایا کہ جب رشتے کیا کرو تو دین دیکھا کرو اور اس کو ترجیح دینا ، نہ حسن کو ترجیح دینا، نہ مال و دولت کو ترجیح دینا، نہ نام ونسب کو ترجیح دینا، یہ دیکھنا کہ وہ سچا دیندار