اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 84

حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۸۴ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچی ساری زندگی کے لئے اندھی ہو چکی ہے اور اس کے علاوہ اسے مرگی کی بیماری بھی لگ گئی ہے اور اس کے علاوہ بھی بعض بیماریاں ہیں جو عمر بھر اس کے ساتھ لگی رہیں گی۔Times ،۲۰ر جون ۱۹۸۷ صفحہ ۴ اس میں لکھا ہے کہ پورٹ سمتھ میں ایک پانچ سالہ بچی کو اس کے باپ نے ریپ کیا اور NSPCC کے اندازے کے مطابق ۱۹۸۶ء میں رجسٹر ڈ مظلوم بچوں کی تعداد دس ہزار تھی۔یہ بچے پندرہ سال سے کم عمر کے ہیں اور ان میں بھاری اکثریت وہ تھی جن کے ساتھ اُسی قسم کے جنسی مظالم ہوئے جن کا میں نے ذکر کیا۔انگلینڈ اور ویلز میں اس تعداد میں اضافہ: ۱۹۸۵ء میں %۴۲ اضافہ ہوا یہ قانون بننے کے بعد اور تحریکات جاری ہونے کے بعد کے قصے ہیں۔سمجھ نہیں آتی کہ کس منہ سے یہ اسلام کی اس تعلیم پر اعتراض کرتے ہیں جس کی تفصیل میں نے آپ کے سامنے ابھی سنائی ہے اور جو حال ہے اپنا وہ یہ ہے کہ جتنی کوششیں کر رہے ہیں یہ ظلم ہاتھ سے نکلتا چلا جارہا ہے اور حد سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔۱۹۸۵ء میں انگلینڈ اور ویلز میں %۴۲ اضافہ ہوا۔اور جہاں تک معصوم بچیوں کے ساتھ Sexual Abuse کا تعلق ہے ۱۲۶ اضافہ ہوا ہے یعنی دگنے سے بھی بڑھ گیا ہے معاملہ۔ساری اسلامی دنیا میں آپ تلاش کر کے دیکھ لیں۔آج کے بگڑے ہوئے حال میں بھی بد سے بدتر حال میں بھی آپ کو غالباً ایک بھی ایسا واقعہ نظر نہیں آئے گا۔ان مظلوم بچوں میں سے لکھا ہے ۱/۵ بچے وہ ہیں جو پانچ سال سے چھوٹی عمر کے ہیں اور اپنے ہی گھروں میں اپنے ہی باپوں کے ہاتھوں وہ مظالم کا شکار ہوئے۔NSPCC کی Statistics کے مطابق یہ اضافہ ہر سال دگنا ہورہا ہے۔یعنی آنے والے چند سالوں میں شاید آپ کو ڈھونڈ کر وہ گھر نکالنا پڑے گا جہاں عورتوں پر مظالم نہیں ہور ہے اور معصوم بچیوں پر مظالم نہیں ہور ہے۔The Independent اپنی ۳۰ / جون ۱۹۸۷ء یعنی آج کل کی بات ہے کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ NSPCC کی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے سال Sexual Abuse بچوں کی تعداد میں %۱۳۷ اضافہ ہو گیا ہے۔پس یہ جو اندازہ پیش کیا گیا تھا کہ ہر سال دُگنے کا اضافہ متوقع ہے اس سے بھی زیادہ ہے۔۱۳۷ کا مطلب یہ ہے کہ دُگنے سے بھی زیادہ۔اور لکھا ہے اس میں سے ۸۰۰ تعداد معصوم بچیوں کی ہے۔Gaurdian ، جولائی ۱۹۸۷ ء کے صفحہ پر ہے کہ ایک نیشنل سروے کی رپورٹ سے