اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 85
حضرت خلیفتہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۸۵ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء معلوم ہوا ہے کہ مظلوم بچوں کی تعداد جو کہ لوکل اتھارٹیز میں رجسٹر ڈ ہوگئی ہے اس میں %۲۲ اضافہ ہو چکا ہے۔اس میں زیادہ تر وہی بچے ہیں یعنی مظلوم جو اپنے والدین کے ستائے ہوئے ہیں۔جہاں تک طلاقوں کا تعلق ہے۔اس ملک میں Middle Class جو تعلیم یافتہ اور اچھی کبھی جاتی ہے اور آپ یا درکھیں کہ یہاں اقتصادی معیار چونکہ اونچا ہے اس لئے مڈل کلاس اچھی خاصی کھاتی پیتی کلاس ہے۔اس میں ۳۲۰ عورتوں نے یہ ثابت کر کے عدالتوں میں طلاق لی کہ ان کے خاوندان پر شدید مظالم کرتے ہیں اور مار کٹائی کرتے ہیں اور ورکنگ کلاس میں %۴۰۔لیکن یہ وہ معاملات ہیں جو عدالتوں میں جا کر ثابت ہوئے اور جن کے نتیجہ میں طلاقیں دے دی گئیں۔وہ ایسی مظلوم عورتیں بے شمار ان %۶۰ میں بھی ہوں گی جو عدالتوں تک پہنچ ہی نہیں سکیں کسی وجہ سے۔چنانچہ آئندہ رپورٹ میں یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ کسی اور وجہ سے عورتیں عدالتوں میں نہیں جاتیں بلکہ ہم جب ان کے گھروں میں گئے ان سے انٹرویو کیا تو انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو چھوڑ دو ہماری مظلومیت کی زندگی اب بدل نہیں سکتی۔ہمارے حالات ایسے ہیں، ہمارے بچوں کے حالات ایسے ہیں کہ اب جس طرح بھی ہے اسی طرح چلتا رہے گا۔چنانچہ ایسی ہی ایک سوشل ورکر نے جو گھروں میں جا کر سوالات کئے ان کے واقعات لکھے ہیں۔ایک عورت کے متعلق بیان ہے جو میں نے چنا ہے آپ کو سنانے کے لئے کہتی ہے:۔”میرے خاوند نے ساری زندگی مجھے مارا۔جب میں پہلے بچے سے حاملہ ہوئی تو میرا خاوند باہر جانے لگ گیا دوسروں کے ساتھ۔پھر جب وہ شراب خانے سے واپس آتا تو مجھے مارنا شروع کر دیتا۔کہتی ہے یہ روزمرہ کا دستور تھا لیکن ایک دفعہ کا ذکر یہ ہے کہ اس نے مجھے کندھوں سے پکڑ کر میرا سر دیوار پر مارنا شروع کیا یہاں تک میں بے ہوش ہو گئی۔پھر مجھے گھسیٹ کے پانی کی ٹونٹی کے نیچے لے گیا اور ٹھنڈا پانی میرے سر پر ڈالا اور جب مجھے ہوش آئی تو پھر اسی طرح مجھے کندھوں سے پکڑا اور دیوار کے ساتھ مارنا شروع کیا یہاں تک کہ میں پھر بے ہوش ہوگئی۔“ جب اس سے پوچھا گیا کہ ان حالات میں وہ اپنے خاوند کو چھوڑتی کیوں نہیں۔تو کہنے لگی کہ آخر وہ بچوں کو لے کر کہاں جائے۔اس سے کہا گیا کہ وہ حکومت کی سوشل سروس کی طرف رجوع کرے۔کہنے لگی کہ اس نے کوشش کی ہے مگر ہر دفعہ اسے ٹال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گھر واپس چلی