اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 83
حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۸۳ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء ایک کتاب ہے۔Scream Quietly Or The Neighbour Will Erinpizzy Hear نے یہ کتاب لکھی اور Penguin نے ۱۹۷۴ء میں شائع کی۔اس کتاب میں عورتوں پر ظلم کی بہت ہی دردناک داستانیں ہیں۔ایک روایت کے مطابق عورتوں کی مار کھا کھا کر زخمی اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں ،سگریٹوں سے جلائی ہوئی جلد اور بے شمار خطرناک زخموں کی ایک کہانی ہے۔اس کہانی کی تفصیلات کو تو چھوڑتا ہوں۔جس نے کتاب دیکھنی ہے وہ دیکھ سکتا ہے۔بہت دردناک واقعات ہیں اس میں۔اس میں یہ ساری چیزیں درج ہیں کہ کس طرح وہ بوتلیں شراب کی مار مار کر توڑتے۔ان کے ٹوٹے پھوٹے شیشوں سے کیسے گہرے زخم عورتوں کے چہروں پر آتے اور باندھ کر سگر بیٹوں سے جلایا جاتا ان کو اور یہ پچھلی صدی کی بات نہیں ہے۔اس صدی کے شروع کی بھی بات نہیں ہے۔۱۹۷۳ء کی بات میں کر رہا ہوں۔بہر حال اس کتاب کو جو دیچیپسی چاہے رکھے ، جس کا حوصلہ ہو وہ اس کو پڑھ سکتا ہے۔۱۹۷۶ء میں پہلی بار انگلستان میں Violence کےخلاف Act بناہےاور قانون کے مطابق ۱۹۱۵ء کا قانون اس وقت تک منسوخ نہیں ہو سکتا جب تک کوئی نیا قانون اس کو منسوخ نہ کرے۔۱۹۷۶ء میں یہ کل کی بات سمجھیں آپ۔پہلی بار یہاں قانون بنایا جارہا ہے اور اعتراض کر کر کے برا حال کیا ہے انہوں نے اسلام کے اوپر۔۱۹۸۱ء میں اس قانون کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے Waff کی ریسرچ ٹیم نے رپورٹ کی کہ اس ایکٹ کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوا کیونکہ جب تک حج کواس بات کی تسلی نہ ہو جائے کہ تشدد واقعی حد سے گزرگیا تھا وہ مردکو گھر سے باہر نہیں نکال سکتے۔اگر انہیں گھر سے نکال دیں تو حکومت کو مسئلہ یہ پیش آجاتا ہے کہ وہ مرد Homeless بن جاتا ہے اور لوکل کونسل کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی پڑتی ہے۔اس ریسرچ ٹیم نے جو Findings دی ہیں ان کی رو سے وہ کہتے ہیں ہم نے چھ سو چھپن مظلوم عورتوں کا انٹرویو لیا ان میں ۶۴ نے کہا کہ ان کے خاوندوں نے انہیں مارا مگر باوجود ر پورٹ کے ۳۶ پولیس نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ وہ گھر یلو جھگڑوں میں دخل اندازی نہیں کر سکتے باقی نے کہا کہ پولیس کو بلایا گیا مگر انہوں نے یقین ہی نہیں کیا کہ مارا بھی گیا تھا اور عورتوں کا اس رپورٹ کے مطابق تاثر تھا کہ چونکہ پولیس والے اکثر مرد ہیں اس لئے اس معاملہ میں وہ مردوں کا ساتھ دیتے ہیں اور عورت کی آواز نہیں سنتے۔South London Press کی جمعہ ۱۲ جون ۱۹۸۷ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ایک باپ نے اپنی ایک سال کی معصوم بچی کو سر پر اس قدر مارا کہ اس کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔