اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 3

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء قرآن کریم میں پردے کے جو احکامات ہیں ان کے متعلق تفصیلی جائزہ لیا گیا۔مجلس افتاء کے سپر د میں نے یہ معاملہ کیا۔چنانچہ گزشتہ چھ ماہ سے یہ معاملہ تفصیلاً زیر غور ہے اور تمام آیات کے اکٹھا کرنے اور ان پر غور کرنے کے علاوہ تمام متعلقہ احادیث کا مطالعہ کیا گیا، اسلامی تاریخ میں پردے نے مختلف وقتوں میں کیا شکلیں اختیار کیں ان کو زیر نظر رکھا گیا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جملہ اقتباسات پر غور کیا گیا، خلفائے سلسلہ عالیہ احمدیہ نے جو اظہار خیال فرمایا ان کو بھی زیر غور لایا گیا، حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان تمام باتوں پر غور کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ اسلام مختلف حالتوں اور مختلف سوسائٹیوں اور ان کی ترقی کی مختلف حالتوں کے پیش نظر اور پھر انسانی ضروریات کے پیش نظر اور پھر کسی سوسائٹی کے عمومی حالات اور کردار کے پیش نظر مختلف قسم کے پردوں کی توقع رکھتا ہے۔یعنی ایک عالمگیر مذہب ہے جو پردے کی ہر امکانی ضرورت کو پیش نظر رکھتا ہے اور کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں ہے جو دنیا کی کسی قوم پر وارد ہوا ہو اور اس کا جواب قرآن کریم میں اور سنت نبوی میں نہ ملتا ہو۔مثلاً ہمارے دیہات میں جو چادر کا پردہ رائج ہے جس میں گھونگھٹ ہے، حیا ہے اور چہرے کو جہاں تک ممکن ہو چادر سے لپیٹ کر دائیں بائیں سے شرم اور احتیاط سے چلنے والی عورتیں ہیں وہ خاوند کو روٹی پہنچانے کے لئے اس کے پاس کھیتوں میں پہنچتی ہیں، پانی بھرنے باہر نکلتی ہیں یہ اسلام کے مطابق استثناء نہیں ہے بلکہ اسلام کے پردے کے بنیادی تخیل کا ایک حصہ ہے اور قرآن کریم اس کے متعلق وضاحت فرماتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ مضمون خوب کھول کر بیان فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی قرآن کریم کی ان آیات کے ترجمہ میں جو میں نے پڑھی تھیں بیان فرمایا کہ: ایک پردہ اسلام کا یہ ہے کہ اپنے چہرے کو دائیں اور بائیں سے ٹھوڑی تک پوری طرح ڈھانک لیا جائے اور ماتھے کو بھی پوری طرح ڈھانک لیا جائے اور کوئی سنگھار ایسا نہ کیا جائے کہ جس کے نتیجہ میں خواہ مخواہ بدلوگوں کی نظروں میں انگیخت پیدا ہو۔وقار اور تحمل کے ساتھ بغیر سنگھار کٹار کے انسانی ضروریات کی خاطر جن سوسائٹیوں میں عورتیں باہرنکلتی ہیں وہ اسلامی پردہ کر رہی ہیں مستی نہیں ہیں۔استثناء تو وہ ہوتا ہے جو قانون کے خلاف ہو۔یہ پردہ قانون کے اندر داخل ہے۔