اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 4

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء چنانچہ یورپ میں جو سوسائٹی ہے اس کے متعلق بھی حضرت مسیح موعوعلیہ الصلوۃ والسلام نے اس تشریح کے ساتھ بیان فرمایا: یہ وہ پردہ ہے جو اہل یورپ کے لئے بھی شاق نہیں گزرسکتا ، بار نہیں گزرسکتا کیونکہ ان کی سوسائٹی میں عورت نے اقتصادی معاملات میں بہت زیادہ آگے قدم بڑھالیا ہے اور ان کی اقتصادیات کا ایک حصہ بن چکی ہے اس لئے اس کو باہر نکلنا پڑتا ہے۔“ اگر وہ عورت اسی قسم کا پردہ کرے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: وہ عین اسلامی پردہ کر رہی ہوگی۔“ 66 اس سے آگے ایک اور پردہ ہے اور وم چہرے کا پردہ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وضاحتوں کی روشنی میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اس بات پر قلم اُٹھایا تو بڑی وضاحت کے ساتھ بغیر کسی استثناء کے یہ بات بیان فرمائی کہ چہرے کا پردہ بھی اسلامی پردہ ہے اور اس کی بنیادوں میں داخل ہے۔مگر کس سوسائٹی کے لئے؟ اس کی وضاحت کے لئے جب آپ حضرت مصلح موعود کی تفاسیر پڑھتی ہیں اور اس موضوع پر جو آپ نے قلم اٹھایا یا بیان فرمایا اس پر غور کرتی ہیں تو آپ کو یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ سوسائٹی کا وہ حصہ جو متمول ہے اور سوسائٹی کا وہ حصہ جو عام اصطلاح میں ایڈوانس کہلاتا ہے یعنی ترقی یافتہ ان کو ہر قسم کی سہولتیں حاصل ہیں گھروں میں نوکر ہیں کام کرنے والے خدمت گزار، ہر قسم کے آرام و آسائش کے سامان اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے ہوئے ہیں، کوٹھیاں ہیں بنگلے ہیں اور بظاہر زندگی کا مقصد اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ وہ اپنے پیسے کو اپنے قلب کے اطمینان کے لئے خرچ کرنے کی راہیں ڈھونڈیں یعنی یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ ہم زندہ کس طرح رہیں گے بلکہ یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو پیسہ ہمیں عطا فرمایا ہے ہم اس کو کس طرح خرچ کریں کہ اور زیادہ لذت یابی کے سامان پیدا ہوں۔یہ وہ سوسائٹی ہے جس کے متعلق حکم ہے کہ جہاں تک ہو سکے وہ اپنے چہرے کو ڈھانپیں سنگھار وغیرہ کر کے باہر نہ نکلیں ، بے ضرورت اور بے مقصد جب وہ دُنیا میں نکلیں گی تو اس سے شدید نقصان سوسائٹی کو پہنچے گا اور آج کل جب کہ ہر طرف گندگی پھیل رہی ہے اور گھروں کے امن اُٹھ رہے ہیں اس وقت زیادہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی عورتیں پورا پردہ کریں۔اب برقع ٹھیک ہے کہ اسلامی پر دہ نہیں لیکن حالات اور موقع کے