اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 694
حضرت خلیل مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۶۹۴ خطاب ۲۵ را گست ۲۰۰۱ء کہنا مان لے۔پھر بے شک بچپن کی شرارت بھی آئے تو کوئی ڈر نہیں۔شرارتوں کو برداشت کر لیں مگر جھوٹ کو برداشت نہ کریں۔جس وقت بھی روکا جائے گا بعد ازاں باز آجائے گا اور اصلاح ہو جائے گی۔فرماتی ہیں اگر ایک بارتم نے کہنا ماننے کی پختہ عادت ڈال دی تو پھر ہمیشہ اصلاح کی امید ہے۔یہی آپ نے ہم لوگوں کو سکھا رکھا تھا اور کبھی ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ ہم والدین کی عدم موجودگی کی حالت میں ان کی منشاء کے خلاف کر سکتے۔حضرت اماں جان ہمیشہ فرماتی تھیں میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے اور یہی اعتبار تھا جو ہم کو جھوٹ سے بچاتا بلکہ اور زیادہ متنفر کرتا۔میں نے بھی یہ نسخہ اپنی بچیوں کے اوپر استعمال کر کے دیکھا ہے اور بہت زیادہ ان کو بچپن سے جھوٹ سے نفرت کی عادت ڈالی ہے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ لطیفے بھی ہو جاتے تھے جھوٹ سے بچنے کی عادت میں بعض دفعہ وہ جھوٹ بول دیا کرتی تھیں۔یعنی کوئی برائی ہوئی تو اپنی طرف منسوب کر لی۔یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک بڑی بہادری ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ بہر حال جھوٹ ہی ہے۔بہر حال الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے میری بچیوں میں بچپن ہی سے جھوٹ سے نفرت پیدا کر دی اور کبھی وہ جھوٹ نہیں بولتیں کم سے کم میرے علم میں نہیں ہے۔حضرت اماں جان کا سختی کرنا حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو یاد نہیں۔کہتی ہیں میرے علم میں تو کبھی آپ نے ایسی سختی نہیں کی لیکن آپ کا ایک رعب تھا جو رعب ہم پر طاری رہتا تھا اور اس رعب کے تابع ہم اصلاح کی کوشش کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت اماں جان کی بہت قدر کرتے تھے۔جس کے نتیجے میں بچوں میں بھی آپ کی بے حد قدر تھی۔حضرت اماں جان کے متعلق پانچواں اصول یہ بیان کرتی ہیں کہ پہلے بچے کی تربیت پر اپنا پورا زور لگاؤ۔دوسرے ان کو نمونہ دیکھ کر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے یعنی بڑا بچہ جو ہے اگر اس کی اچھی تربیت کر لوگی تو انشاء اللہ زیر تربیت اس بڑے بچے کے بعد باقیوں کی تربیت بھی اچھی ہوتی چلی جائے گی۔اب ایک اور روایت حضرت ابو ہریرہ کی ہے۔ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین دُعاؤں کی قبولیت میں کوئی شک نہیں۔مظلوم کی دُعا، مسافر کی دُعا اور باپ کی بیٹے کے لئے دُعا۔ماؤں کو وہم ہوتا ہے کہ بچے کو نظر بد لگ جائے گی اور فلاں شخص کی نظر بد کھا جائے گی۔اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دُعا یا درکھیں۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں