اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 693
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۹۳ خطاب ۲۵ را گست ۲۰۰۱ء صالحات کا مصداق کہیں۔لیکن اگر یہ خواہش صرف اس لئے ہو کہ ہمارا نام باقی۔66 رہے اور وہ ہمارے املاک و اسباب کی وارث ہو کہ وہ بڑی نامور اور مشہور ہو۔اس قسم کی خواہش میرے نزدیک شرک ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ ۵۶۱) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی ایک اور روایت ہے آپ بچوں کی خبر گیری اور پرورش اس طرح کرتے ہیں کہ ایک سرسری دیکھنے والا گمان کرے کہ آپ سے زیادہ اولاد کی محبت کسی کو نہ ہوگی اور بیماری میں اس قدر توجہ کرتے ہیں تیمارداری اور علاج میں ایسے محو ہوتے ہیں کہ گویا اور کوئی فکر ہی نہیں مگر باریک بین دیکھ سکتا ہے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور خدا کے لئے اس کی ضعیف مخلوق کی رعایت اور پرورش مد نظر ہے۔آپ کی پلوٹھی بیٹی عصمت لدھیانہ میں ہیضے سے بیمار ہوئی۔آپ اس کے علاج میں یوں دوا دارو کرتے گویا اس کے بغیر زندگی محال ہے اور ایک دنیا دار دنیا کی عرف واصطلاح میں اولاد کا بھوکا اور شیفتہ اس سے زیادہ جانکا ہی نہیں کر سکتا مگر جب وہ مرگئی تو آپ اس سے یوں الگ ہو گئے گویا کوئی چیز تھی ہی نہیں اور جب سے کبھی ذکر تک نہیں کیا کہ کوئی لڑکی بھی ہوتی تھی۔اب حضرت پھوپھی جان نواب مبار کہ بیگم صاحبہ حضرت اماں جان کی تربیت کے متعلق کچھ اصول بیان کرتی ہیں جو آپ کے لئے ہمیشہ کے لئے رہنما اصول ہیں اسی طریق پر اگر آپ اپنے بچوں کی تربیت کریں تو انشاء اللہ بڑے ہوتے تک وہ نیک رہیں گے۔فرماتی ہیں اصولی تربیت میں میں نے اس عمر تک بہت مطالعہ عام و خاص لوگوں کا کر کے بھی دیکھا حضرت والدہ صاحبہ سے کسی کو بہتر نہیں پایا۔آپ نے دنیوی تعلیم حاصل نہیں کی مگر جو آپ کے اصول ، اخلاق و تربیت ہیں ان کو دیکھ کر میں نے یہی سمجھا ہے کہ خاص خدا کا فضل اور خدا کے مسیح کی تربیت کے سوا اور کچھ نہیں کیا جاسکتا کہ یہ سب کہاں سے سیکھا۔نمبر ابچے پر ہمیشہ اعتبار اور پختہ اعتبار ظاہر کر کے اس کو والدین کے اعتبار کی شرم اور لاج ڈال دینا یہ بہت بڑا اصول تربیت ہے تو بچے پر اعتبار کریں اور اس کو شک سے نہ دیکھا کریں۔اگر کوئی غلط بھی کام کر رہا ہے تو آپ کے اعتبار کی نظروں کی تابع وہ اصلاح پذیر ہو جائے گا اور یہ سمجھتے ہوئے کہ مجھ پر اعتبار کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل۔آئندہ وہ آپ کو غلط باتیں بتانے کی کوشش نہیں کرے گا۔جھوٹ سے نفرت یہ بہت ہی بنیادی تربیت ہے۔بچپن ہی میں بچوں کو جھوٹ سے نفرت دلا نا بہت ہی ضروری ہے۔ہم لوگوں سے بھی آپ ہمیشہ یہی فرماتی رہیں کہ بچے میں یہ عادت ڈالو کہ وہ