اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 686 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 686

حضرت خلیفہ المسح الرائع" کے مستورات سے خطابات ۶۸۶ خطاب ۲۵ را گست ۲۰۰۱ء حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں سے عزت کے ساتھ پیش آؤ اور ان کی اچھی تربیت کرو۔یہ بھی بہت ضروری ہے۔بچوں کو بہت زیادہ ڈانٹنا اور تو کر کے مخاطب کر کے تو تو کہہ سکتے ہیں مگر پیار کے ساتھ۔اگر بے عزتی کے ساتھ تو کر کے تو تڑاخ کی باتیں کریں تو اس بچے کی تربیت پھر ہمیشہ خراب ہوتی ہے۔بچپن سے اس کے دل میں ماں باپ کی عزت باقی نہیں رہتی تو بعض یو پی سی پی وغیرہ میں تو رواج ہے کہ وہ بچے کو آپ کر کے مخاطب کرتے ہیں۔تو اگر آپ کر کے مخاطب کر سکیں تو یہ بھی اچھی عادت ہے۔بچے کا ادب کریں تو بچہ ماں باپ کا ادب کرتا ہے۔اگر ادب نہ سکھائیں تو پھر بچہ بے ادب کے طور پر بڑا ہوتا ہے اور بڑے ہو کر بھی پھر ماں باپ کا ادب نہیں کرتا۔حضرت عائشہ صدیقہ بیان فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمہ سے بڑھ کر شکل وصورت اور چال ڈھال اور گفتگو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا۔فاطمہ جب کبھی حضور سے ملنے آتیں تو حضور ان کے لئے کھڑے ہو جایا کرتے۔ان کے ہاتھ کو پکڑ کر چومتے اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے۔اسی طرح جب حضور ملنے کے لئے حضرت فاطمہ کے یہاں تشریف لے جاتے تو وہ کھڑی ہو جاتیں۔حضور کے دست مبارک کو بوسہ دیتیں اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھا تیں۔ملفوظات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک اور عبارت ہے۔اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالیٰ کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں نہ کبھی ان کے لئے دُعا کرتے ہیں اور نہ مراتب تربیت کو مد نظر رکھتے ہیں۔“ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو قول ہے آپ کے ذہن میں اس وقت کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اس قسم کی درخواستیں کرتے ہوں گے اور خود خیال نہیں کرتے ہوں گے مگر اب تو مجھے جہاں تک یاد ہے جتنے بھی لوگ اپنی اولاد کے لئے خط لکھتے ہیں اکثر ان کے نیک ہونے کے لئے دُعا کی تحریک کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں جس میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دُعا نہیں کرتا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ ۵۶۲)