اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 685 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 685

حضرت خلیفہ المسح الرائع" کے مستورات سے خطابات ۶۸۵ خطاب ۲۵ را گست ۲۰۰۱ء انسان اپنی موت کے بعد پیچھے چھوڑ کے جاتا ہے وہ تین ہیں۔نیک اولا د جو بعد میں اپنے ماں باپ کے لئے دعا گو ہو، صدقہ جاریہ جس کا ثواب اسے ہمیشہ پہنچتا ر ہے اور ایسا علم جس پر اس کے بعد عمل کیا جاتا رہے۔خالی علم ، صدقہ نہیں ہے جار یہ بلکہ ایساعلم جس پر بعد میں عمل ہوتا رہے۔ایک بخاری کی حدیث ہے۔حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے۔کہتے ہیں میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو میں اسے لے کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اس کا نام ابراہیم رکھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم تفاؤل کے طور پر اچھے نام بچوں کے رکھا کرتے تھے اور آپ کو بھی اپنے بچوں کے نام محض سننے میں ، خوبصورت نہ ہوں بلکہ معنی خیز ہوں اور بہت اچھے نام ہوں ،ایسے نام رکھنے چاہئے۔بچہ بھی بسا اوقات اپنے نام کے مطابق ہی بنتا ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی دستور تھا۔اس کا نام ابراہیم رکھا پھر اس زمانے میں جو دیا کرتے تھے۔کیا کہتے ہیں اس کو گھٹی یا جو کچھ کہتے ہیں پھر اسے ایک کھجور کی گھٹی دی اور اس کے لئے خیر و برکت کی دُعا کی۔آج کل تو لوگ شہد کی گھٹی دیتے ہیں۔اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور کی گھٹی ثابت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اگر اولاد کی خواہش کرے تو اس نیت سے کرے وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ اِمَامًا (الفرقان : ۷۵) پر نظر کر کے کرے۔کہ کوئی ایسا بچہ پیدا ہو جائے جو اعلاء كلمتۃ الاسلام کا ذریعہ ہو۔جب ایسی پاک خواہش ہو تو اللہ قادر ہے کہ زکریا کی طرح اولا دوے دے۔66 ( ملفوظات جلد سوم ص ۵۷۹) یعنی اولا داگر ظاہری حالت میں ناممکن بھی ہو۔اگر یہ نیت ہو کہ بہت پاک اولا د ہو اور اس نیت سے خدا کے حضور انسان گریہ وزاری کرتا رہے اور مایوس نہ ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں ہرگز بعید نہیں کہ بظاہر ناممکن حالات میں بھی اللہ نیک اولا دعطا فرمائے۔اسی طرح آپ فرماتے ہیں۔ر بعض اوقات صاحب جائیداد لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ کوئی اولاد ہو جاوے جو اس جائیداد کی وارث ہو۔تا کہ غیروں کے ہاتھ میں نہ چلی جائے مگر نہیں جانتے کہ جب مر گئے تو شرکاء کون اور اولادکون۔سبھی تیرے لئے تو غیر ہیں۔اولاد کے لئے اگر خواہش ہو تو اس غرض سے ہو کہ وہ خادم دین ہو۔“