اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 687
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۸۷ خطاب ۲۵ را گست ۲۰۰۱ء بخاری کتاب الاطعمة میں حضرت عمر بن ابی سلمی " جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب تھے بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رہتا تھا۔کھانا کھاتے وقت میرا ہاتھ تھالی میں پھرتی سے ادھر ادھر گھومتا تھا۔حضور نے میری اس عادت کو دیکھ کرفرمایا اے بچے! کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھو اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔اس وقت سے لے کر میں ہمیشہ حضور کی اس نصیحت کے مطابق کھانا کھاتا ہوں۔اب یہ بھی بچپن میں ہی تربیت کی جائے تو تربیت ہوتی ہے۔اگر بچپن سے بسم اللہ کہنے کی عادت نہ ڈالیں تو بڑے ہو کر بھی نہیں رہتی اور کھانا اپنے سامنے سے کھانا چاہئے۔ہر جگہ انگلیاں نہیں پھیر نی چاہئیں۔پس جو بچے ڈھونڈتے پھرتے ہیں اچھی چیزیں ، اچھی بوٹی کھانے میں، ان کو سمجھایا کریں اس کی بھی باری آجائے گی تم آرام سے اطمینان سے اپنا کھانا کھایا کرو۔اطمینان سے کھانا کھانے سے ہاضمہ بھی انسان کا بہتر ہوتا ہے۔جو افراتفری میں کھانا کھاتے ہیں ان کو نقصان پہنچتا ہے۔ایک بچے کے متعلق روایت ہے ابورافع بن عمر والغفاری کے چچا سے یہ روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں ابھی بچہ ہی تھا تو انصار کے کھجوروں پر پتھر مار مار کر پھل گرایا کرتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گذرا دھر سے ہوا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ یہاں ایک لڑکا ہے جو ہماری کھجوروں کو پتھر مارتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ بچہ لایا گیا تو آپ نے پوچھا اے لڑکے تو کیوں کھجوروں کو پتھر مارتا ہے۔میں نے عرض کیا کہ تا کہ میں کھجور میں کھا سکوں۔فرمایا آئندہ کھجور کے درخت کو پتھر نہ مارنا ہاں جو پھل گر جائے اسے کھا لیا کر پھر آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور دُعا کی کہ اللهم اشبع بطنه “ کہ اے اللہ اس کا پیٹ بھر دے۔یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی بغیر پتھر مارے اگر کوئی پھل گرا ہوا نیچے مل جائے اس کا کھانا نا جائز نہیں ہے لیکن ساتھ ہی دُعا بھی دی کہ اللہ اس کا پیٹ بھر دے پھر ساری عمر اس نے کبھی حرص نہیں کی۔بچوں کو حلال اور طیب کھانے کی نصیحت کرنا : حضرت ابو ہریرہ سے بخاری میں یہ روایت ہے۔ایک دفعہ حضرت علیؓ کے بیٹے حسن نے صدقہ کی ایک کھجور منہ میں ڈالی تھی تو حضور نے فرمایا چھی چھی۔تم جانتے نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روایت کے مطابق اپنے نواسے کے منہ میں انگلی ڈال کے اس