اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 673 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 673

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۶ اگست ۲۰۰۰ء پر ہیز نہیں کرتے لیکن خدا تعالیٰ نے ایسی طرزوں سے رزق کمانا منع فرمایا ہے۔یہاں تک عورتوں کے حقوق ہیں کہ جب مردکو کہا گیا ہے کہ ان کو طلاق دو تو مہر کے علاوہ ان کو کچھ اور بھی دو کیونکہ اس وقت تمہاری ہمیشہ کے لئے اس سے جدائی لازم ہوتی ہے پس لازم ہے کہ ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔( ملفوظات جلد پنجم ص:۳۰) پھر ملفوظات میں یہ درج ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اسلام نے جو یہ حکم دیا ہے کہ مرد عورت سے اور عورت مرد سے پردہ کرے اس سے غرض یہ ہے کہ نفس انسان پھسلنے اور ٹھوکر کھانے کی حد سے بچار ہے کیونکہ ابتداء میں اس کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ بدیوں کی طرف جھکا پڑتا ہے اور ذرا سی بھی تحریک ہو تو بدی پر ایسے گرتا ہے کہ جیسے کئی دنوں کا بھوکا آدمی کسی لذیذ کھانے پر۔یہ انسان کا فرض ہے کہ اس کی اصلاح کرے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۱۰۶ جدید ایڈیشن) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعا نہیں کی۔مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر حقوق ہیں۔بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بے چاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم : ص ۳۰) یہاں تک حال ہے کہ خواب میں کوئی دیکھے کہ میری جوتی گم ہوگئی ہے تو تعبیر یہ بتائی جاتی ہے کہ تمہاری بیوی ہاتھ سے نکل جائے گی۔یہ نہایت درجہ احمقانہ حرکتیں ہیں عورت کو جوتی کے طور پر نہیں لینا چاہئے عورت کے قدموں تلے تو جنت ہے عورت کی جوتی تلے تمہاری جنت ہے۔اس سے بہتر عورتوں کے مرتبہ کو بڑھانے والی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ ان کو