اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 674
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۷۴ خطاب ۲۶ راگست ۲۰۰۰ء زندہ درگور کر دیتے ہیں۔چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے خَيْرُ كُمْ خَيْرُ كُمْ لِاَهْلِہ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے۔“ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم : ص ۳۰۰) اگر تم اپنی اصلاح چاہتے ہو تو یہ بھی لازمی امر ہے کہ گھر کی عورتوں کی اصلاح کرو۔عورتوں میں بت پرستی کی جڑ ہے کیونکہ ان کی طبائع کا میدان زینت پرستی کی طرف ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بت پرستی کی ابتداء انہیں سے ہوئی ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم ص ۱۰۴) پھر فرماتے ہیں: اس وقت جو نئی روشنی کے لوگ مساوات پر زور دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کے حقوق مساوی ہیں ان کی عقلوں پر تعجب آتا ہے وہ ذرا مردوں کی جگہ عورتوں کی فوجیں بنا کر جنگوں میں بھیج کر دیکھیں تو سہی۔کیا نتیجه مساوی نکلتا ہے یا مختلف۔ایک طرف تو اسے حمل ہے اور ایک طرف جنگ ہے وہ کیا کر سکے گی؟ غرض کہ عورتوں میں مردوں کی نسبت قومی کمزور ہیں اور کم بھی ہیں اس لئے مرد کو چاہئے کہ عورت کو اپنے ماتحت رکھے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم : ص۱۰۴) اور ماتحت رکھنے کے جو حقوق ہیں وہ پورا کرے۔ایک دفعہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے ایک مضمون سول ملٹری گزٹ سے سنایا جو کہ اسلامی عورتوں کے حقوق پر تھا اس مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں عورتوں کو وہی حقوق دیئے گئے ہیں جو کہ مردوں کو دیئے گئے ہیں حتی کہ اسلامی عورتوں میں پاکیزہ اور مقدس عورتیں بھی ہوتیں ہیں اور ولیہ بھی ہوتی ہیں اور ان سے خارق عادت امور سرزد ہوتے ہیں اور جو لوگ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ