اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 672
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۶ اگست ۲۰۰۰ء مذہب ہو جاوے کہ میرے خاوند جیسا اور کوئی نیک دنیا میں نہیں ہے اور وہ یہ اعتقاد کرے کہ یہ باریک سے باریک نیکی کی رعایت کرنے والا ہے۔جب عورت کا یہ اعتقاد ہو جاوے گا تو ممکن نہیں کہ وہ خود نیکی سے باہر رہے۔سب انبیاء اولیاء کی عورتیں نیک تھیں اس لئے کہ ان پر نیک اثر پڑتے تھے۔جب مرد بدکار اور فاسق ہوتے ہیں تو ان کی عورتیں بھی ویسی ہی ہوتی ہیں۔ایک چور کی بیوی کو یہ خیال کب ہو سکتا ہے کہ میں تہجد پڑھوں خاوند تو چوری کرنے جاتا ہے تو کیا وہ پیچھے تہجد پڑھتی ہے۔اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ اسی لئے کہا گیا ہے کہ قوامون کا یہ معنی پیش نظر رکھیں سختی کرنے والا مراد نہیں بلکہ وہ جس سے عورتیں اثر قبول کرتی ہیں کہ عورتیں خاوندوں سے متاثر ہوتی ہیں جس حد تک خاوند صلاحیت اور تقویٰ بڑھاوے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی۔ویسے ہی اگر وہ بدمعاش ہو گا بدمعاشی سے وہ حصہ لیں گی۔( ملفوظات جلد سوم ص: ۱۶۳ ۱۶۴) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: عورتیں یہ نہ سمجھیں کہ ان پر کسی قسم کا ظلم کیا گیا ہے کیونکہ مرد پر اس کے بہت سے حقوق رکھے گئے ہیں۔بلکہ عورتوں کو گو یا بالکل کرسی پر بٹھا دیا گیا ہے اور مرد کو کہا ہے کہ ان کی خبر گیری کر۔اس کا تمام کپڑا ، کھانا اور تمام ضروریات مرد کے ذمہ ہیں دیکھو کہ موچی ایک جوتی میں بددیانتی سے کچھ کا کچھ بھر دیتا ہے صرف اس لئے کہ اس سے کچھ بیچ رہے تو جو رو بچوں کا پیٹ پالوں۔سپاہی لڑائی میں سر کٹاتے ہیں صرف اس لئے کہ کسی طرح جو رو بچوں کا گزارہ ہو بڑے بڑے عہد یدار رشوت کے الزام میں پکڑے ہوئے دیکھے جاتے ہیں وہ کیا ہوتا ہے ؟ عورتوں کے لئے ہوتا ہے عورت کہتی ہے کہ مجھ کو زیور چاہئے ، کپڑا چاہئے مجبور بیچارے کو کرنا پڑتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم ص: ۳۰) یہ مراد نہیں کہ رشوت لینا اچھی بات ہے۔مراد یہ ہے کہ عورتوں کو خوش کرنے کی خاطر ان کی ضروریات پوری کرنے کی خاطر حرام کھانے سے بھی