اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 336

حضرت خلیفہ آسیح الرابع' کے مستورات کے خطابات ۳۳۶ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۳ء صورت ہوگی اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے گا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انتظام فرمائے۔رات میں نے رویا میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ ”تم سے نور الدین کا سلوک کیا جائے گا۔‘ نورالدین حضرت خلیفہ امسیح الاول تھے اور آپ کے ساتھ خدا تعالیٰ کا خاص سلوک تھا کہ بغیر مانگے ، بغیر کسی طلب کے عین ضرورت کے وقت غیب سے ضروریات پوری ہوتی چلی جاتی تھیں۔یہ رویا میں نے کسی کو نہیں بتائی۔لیکن دوسرے یا تیسرے دن بی بی نے خواب میں دیکھا اور مجھے صبح بڑے مسکرا کر خواب سنائی کہ میں نے دیکھا کہ مسجد اقصیٰ میں مہر آپا سیدہ بشری بیگم مٹھائی تقسیم کر رہی ہیں اور کوئی پوچھتا ہے کہ یہ مٹھائی کس بات کی تقسیم ہورہی ہے تو وہ کہتی ہیں اس بات کی کہ خدا تعالیٰ نے میرا ذکر کر کے ان کو الہام کیا ہے کہ میں تجھے نورالدین بنارہا ہوں۔ایک خواب مجھے دکھائی گئی ہے اس کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے بی بی کو رؤیا دکھائی اور اس کا پھر عملی ثبوت فوری طور پر اس طرح ظاہر فرما دیا کہ دوسرے دن جب میں دفتر گیا ہوں تو وہاں میرے میز پر چالیس پاؤنڈ کا ایک بل پڑا تھا جو میرے کسی داماد نے رکھا تھا کہ مجھ سے لے لے۔میں نے اس کو کہا کہ شام کو ملاقات کے وقت آکے لے جانا۔حالانکہ ایک پیسہ بھی میرے پاس نہیں تھا اور ملاقات کے وقت اور اس کے درمیان میں کسی پیسے کے بظاہر آنے کا کوئی سوال بھی نہیں تھا لیکن ان کے جانے کے بعد بعینہ چالیس پاؤنڈ کا تحفہ کہیں سے آ گیا۔ایک لفافہ دیکھا تو اس میں چالیس پاؤنڈ کا تحفہ تھا اور جب وہ آئے تو میں نے ان کو پیش کر دیا۔یہ جو واقعہ ہے یہ اس لئے بتارہاہوں کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے تائید ظاہر فرمائی ہے۔یعنی بعض دفعہ رویا نفس کی تمنا ئیں ہوتی ہیں لیکن جو رؤیا مبشرات ہوتی ہیں ان کے ساتھ تائیدی بیان ہوتے ہیں۔ایک کو ر و یا دکھائی جاتی ہے تو دوسرے کو اس کی تائید میں دکھائی جاتی ہے اور پھر عملی طور پر واقعات میں ان رؤیا کا سچا ہونا ثابت کر دیا جاتا ہے۔مبارکہ بشیر صاحبہ دستگیر سوسائٹی کراچی سے لکھتی ہیں۔بقر عید سے یعنی عید الاضحیہ سے تین دن پہلے رات کو مباہلہ کی کاپی پڑھی اور دعائیں کرتی لیٹی تو خواب میں دیکھا کہ سترہ تاریخ کو بہت بڑا انقلاب آئے گا۔خواب میں یہ الفاظ تین مرتبہ زور دے کر کوئی کہتا ہے۔صبح گھر والوں کو یہ خواب سنایا اور ساتھ ہی ذکر کرتی ہوں کہ ۲۳ / مارچ کو ہماری صد سالہ جو بلی ہے تو اس سے پہلے ۱۷ تاریخ کو انشاء اللہ کوئی انقلاب آئے گا۔ضیاء کی موت کی خبر سن کر خیال آیا کہ دیکھو یہ خواب کس شان کے ساتھ پوری ہوئی۔مکرم نورالدین صاحب نے کراچی سے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ضیاء الحق کی ہلاکت سے چند روز پہلے میری بہو نزہت بیگم نے رویا میں دیکھا کہ ضیاء الحق آسمان سے الٹالٹکا ہوا ہے۔وہ مزید