اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 337

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات کے خطابات ۳۳۷ خطاب ۳۱ ؍ جولائی ۱۹۹۳ء لکھتے ہیں کہ ٹی وی پر جب ہم نے یہ واقعہ دیکھا تو دکھایا گیا کہ صدر کے جہاز نے تین قلابازیاں کھائی ہیں اور پھر وہ سر کے بل گویا الٹاز مین میں دھنس گیا۔تو کس شان کے ساتھ کس صفائی کے ساتھ یہ رویا بھی پوری ہوئی۔پس وہی خدا ہے جو ہم عاجزوں کی مہمان نوازی فرما رہا ہے۔اور ہمارے دلوں کو تقویت بخشتا ہے اور کہتا ہے۔میں ہی ہوں جس کو تم نے اپنا رب بنایا ہے۔پس میں اپنی ربوبیت کے نشان تم پر ظاہر کرتا چلا جاؤں گا فرشتے جماعت احمد یہ پر جیسے مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں نازل ہوتے تھے آج بھی نازل ہورہے ہیں اور کل بھی نازل ہوتے رہیں گے اگر ہم نے اپنے تقویٰ کی حفاظت کی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیش کے لئے جاری وساری رہے گا۔ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ایک دن میری اہلیہ نے بتایا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے آپ نے وسطی اور سبابہ ان دو انگلیوں کو کھڑی کر کے فرمایا۔میں اور مسیح ایک ہیں۔آپ بیعت سے پہلے بھی صاحب حال تھیں۔پیغمبروں، اولیاء اور فرشتوں کی زیارت کر چکی تھیں۔ان کے خواب دیکھنے سے حضرت اقدس پر بہت ایمان پیدا ہو گیا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اپنی والدہ کی ایک رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔دیکھا کہ رات کے وقت (یہ ابھی احمدی نہیں ہوئی تھیں ) اپنے مکان کے صحن میں اس طور پر انتظام میں مصروف ہیں کہ گویا بہت سے مہمانوں کی آمد متوقع ہے۔اسی دوران میں دالان کے اندر جانے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کہ مغرب کی طرف کو ٹھڑی میں بہت اجالا ہے۔حیران ہوئیں کہ وہاں تو کوئی لیمپ وغیرہ نہیں ہے۔یہ روشنی کیسی ہے چنانچہ آگے بڑھیں تو دیکھا کہ وہ کمرہ روشنی سے دمک رہا ہے اور ایک پلنگ پرا یک نورانی صورت بزرگ تشریف فرما ہیں۔اور ایک نوٹ بک میں کچھ تحریر فرما رہے ہیں۔والدہ صاحبہ کمرے میں داخل ہو کر ان کی پیٹھ کی طرف کھڑی ہو گئیں۔جب انہوں نے محسوس کیا کہ کوئی شخص کمرے کے اندر آیا ہے تو انہوں نے اپنا جوتا پہننے کے لئے پاؤں پلنگ کے نیچے اتارے گویا کمرے سے چلے جانے کی تیاری کرنے لگے ہیں۔والدہ صاحبہ نے عرض کی۔یا حضرت مجھے تمام عمر میں کبھی اس قدر خوشی محسوس نہیں ہوئی جس قدر آج میں محسوس کر رہی ہوں۔آپ تھوڑی دیر تو اور تشریف رکھیں۔چنانچہ وہ بزرگ تھوڑی دیر اور ٹھہر گئے اور پھر جب تشریف لے جانے لگے تو والدہ صاحبہ نے دریافت کیا کہ یا حضرت اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کون بزرگ ملے ہیں تو میں کیا بتاؤں۔انہوں نے دائیں کندھے کے اوپر سے پیچھے کی طرف دیکھ کر اور دایاں باز و اُٹھا کر جواب دیا