اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 335
حضرت خلیفہ آسیح الرابع' کے مستورات کے خطابات ۳۳۵ خطاب ۳۱ ر جولائی ۱۹۹۳ء لمبے چوغوں والے فقیر ( بعینہ یہی بات دیکھی جارحانہ طور پر کاروں کی طرف بڑھتے ہیں اور میں گھبراتی ہوں کہ اس سے کیا ہو گا۔اتنے میں کوئی خاتون کہتی ہیں کہ بڑے کھولو اور نوٹ باہر پھینکو تا کہ ان فقیروں کی توجہ ان نوٹوں کی طرف ہو جائے۔یہ سنتی ہوں تو اچانک میری نظر سامنے پڑتی ہے۔سامنے کی کارسے کوئی شخص اچانک نوٹوں کی بارش باہر کر دیتا ہے اور سارے فقیر نوٹوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔جب ہمارا قافلہ اس جگہ پہنچا جس کا میں نے ذکر کیا ہے تو ظاہری طور پر وہاں کافی تعداد میں وہ فقیر نما لوگ موجود تھے جو انٹیلی جنس کے آدمی تھے۔فوجی چولے جن کو برانڈی کہا جاتا ہے اور بڑے بڑے بوٹ پہنے ہوئے تھے وہ ہماری کاروں کی طرف جھانکتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھے اچانک سامنے والی کار سے عزیزم ادریس نصر اللہ خاں جو چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب مرحوم کے صاحبزادہ ہیں ان کو پتہ نہیں کیا خیال آیا بلکہ تصرف کہنا چاہئے۔ان کے پاس سو کے نوٹوں کی ایک تھی تھی انہوں نے اسی وقت پھاڑی اور دونوں طرف سے وہ نوٹ باہر پھینکنے شروع کر دیئے اور ان فقیروں کی ساری توجہ نوٹوں کی طرف ہوگئی اور میری کارکو نظر انداز کر دیا۔چنانچہ ہمارا قافلہ خیریت سے وہاں سے گذر گیا۔اب دیکھیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ رویائے صالحہ کے ذریعہ جماعت کے تقویٰ کی خبر دیتا ہے اور اپنے اس تعلق کی خبر دیتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ہم دنیا میں بھی تمہارے ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی ساتھ ہیں اور یہ جو خبریں ہیں یہ خدا تعالیٰ کی مہمانی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے دسترخوان کی نعمتیں ہیں جو جماعت احمدیہ کوروز بروز تازہ تازہ میسر آتی رہتی ہیں۔امتہ الحی صاحبہ اہلیہ مکرم شکیل احمد صاحب طاہر قادیان لھتی ہیں کہ کل رات (ان کا یہ خط ۲۸ را پریل ۱۹۸۴ ء کا ہے ) میں نے خواب میں دیکھا کہ نماز فجر کے بعد میرے شوہر شکیل صاحب گھر میں آکر اطلاع دیتے ہیں کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ دارالرحمت میں پہنچ گئے ہیں اور یہ جملہ دو تین مرتبہ انہوں نے آنگن میں کھڑے ہو کر دہرایا اس کے بعد جب میری آنکھ کھلی تو میں نے محسوس کیا کہ جو بے چینی اور فکر تھی وہ دور ہو چکی ہے۔یہ وہی رات ہے جس رات میں انگلستان کے سفر کے لئے روانہ ہوا ہوں اور بھی بہت سی رؤیا ہیں لیکن اب چونکہ وقت ختم ہوا چاہتا ہے اس لئے میں بعض دوسری رؤیا کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔اب آصفہ بیگم کی ایک رؤیا بھی آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس پہ میں حیران رہ گیا تھا کہ کس حیرت انگیز طریق پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی ہے۔جب شروع میں انگلستان پہنچا ہوں تو لازم بات ہے کہ کئی قسم کی فکریں تھیں اور میں نے ایک فیصلہ کیا تھا کہ جماعت سے کوئی گزارہ نہیں لینا جو بھی