اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 164

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۶۴ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء کئے لیکن زندگی نہ پائی اور وعدے پورے نہ کر سکے ان کا ایفاء کر و۔ان کے دوستوں کی تکریم اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔پس ماں کے ساتھ جو حسن سلوک ہے اُس کے ساتھ والد کا بھی ذکر ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن جہاں بھی تفریق کا سوال پیدا ہوا ہے، بکثرت ایسی احادیث ملتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کو زیادہ اہمیت دی ہے۔چنانچہ ایک موقع پر جب آپ سے سوال کیا گیا کہ کس کی خدمت کروں تو آپ نے فرمایا، ماں کی۔پھر سوال کیا گیا اس کے بعد کس کی؟ پھر فرمایا ماں کی۔پھر سوال کیا گیا گیا پھر جواب تھا ماں کی۔چوتھی بار اُس نے سوال کیا پھر فرمایا ماں کی خدمت کرو۔پس اس پہلو سے ماؤں کو ایک عظیم مقام قرآن کریم نے عطا کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ جو نصیحتیں کیا کرتے تھے اُن پر عمل بھی فرماتے تھے۔جب آپ نے فرمایا، جو ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کا ایک طریق ہے کہ اُن کے رشتہ داروں سے بھی حسن سلوک کیا کرو تو اُس کا ایک مظاہرہ ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: حضرت ابوطفیل بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جیرانہ میں گوشت تقسیم کرتے دیکھا، میں ابھی بچہ ہی تھا اور اونٹ کی ہڈیاں اُٹھائے لئے پھرتا تھا اتنے میں ایک خاتون آئیں اور حضور کے پاس جا پہنچیں۔تو آپ نے اُٹھ کر ان کے لئے چادر بچھائی اور اُس چادر پر وہ بیٹھ گئیں۔میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو صحابہ نے بتایا کہ یہ آپ کی رضاعی والدہ ہیں۔یعنی ماں کے معاملہ میں رضاعی والدہ کو بھی شامل کیا گیا۔(ابو داؤد۔کتاب الادب باب فی بر الوالد ین ) لیکن اس کے علاوہ دوسری روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اپنی رضاعی والدہ کے تعلق والوں کے ساتھ بھی آپ نے بے انتہا حسن سلوک کیا اور بہت سے موقعوں پر ان سے غیر معمولی بخشش کا سلوک فرمایا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ماں باپ سے حسنِ سلوک کے متعلق ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ حسن سلوک اُن کی زندگی کے ساتھ ختم نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ اُن کی زندگی کے بعد بھی جاری رہنا چاہئے۔اب میں دوسرے مضمون کی طرف آتا ہوں جو طلاق سے تعلق رکھتا ہے۔اس پہلو سے بھی آپ تمام مذاہب کا موازنہ کر کے دیکھیں آپ کو کسی مذہب میں طلاق کے مضمون سے متعلق اتنی تفصیلی ہدایات نہیں ملیں گی جس طرح قرآن کریم میں ملتی ہیں۔طلاق سے مراد یہ ہے کہ مرد جب اپنی بیوی کو علیحدہ کرنے کا فیصلہ کرے، یہ تمام کاغذات کا جتھہ جو دیکھ رہی ہیں اس میں تمام تر قرآنی آیات درج ہیں جو اسی مضمون سے تعلق رکھتی ہیں۔ساری پڑھ کر آپ کے سامنے اس وقت سنانے کا تو وقت