اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 163 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 163

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۶۳ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء بڑا بد نصیب ہے۔سے مروی ہے۔آپ کہتے ہیں کہ میرے دادا نے ( یہ صحابی نہیں تھے ) عرض کیا یا رسول اللہ ! کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں ، بہن ، بھائی اور اپنے غلام کے ساتھ جو تم سے قریب ہو۔یہ واجب حق ہے اور قرابت داری کے حقوق کی حق شناسی کرو۔پھر ایک موقع پر آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ خاک آلودہ ہو اُس کی ناک یعنی گویا ایسا شخص ذلیل ہوا جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے کی عمر میں پایا اور پھر بھی وہ چھتم میں گیا۔یعنی مطلب یہ ہے کہ بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بخشش کا سلوک فرماتا ہے اور بوڑھے ماں باپ کی خدمت کے نتیجہ میں جنت کی راہیں آسان ہو جاتی ہیں۔جو اس موقع کو پائے اور کھو دے وہ ( صحیح مسلم کتاب البر والصلة باب رغم انف من ادرک ابویه ) جہاد کا مضمون آپ سب پہ روشن ہے کہ اُس کی کتنی اہمیت ہے۔بہت سے ایسے مواقع تھے جبکہ مسلمانوں کی دشمنوں سے لڑائی ہورہی تھی یعنی جہاد عمومی بھی جاری تھا لیکن تلوار کا جہاد بھی شروع ہو چکا تھا۔ایسے موقع پر حضرت امام بخاری ہی کی روایت ہے، الادب المفرد سے کہ ایک شخص رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے اپنے آپ کو جہاد کے لئے پیش کیا، یعنی قتال کے لئے۔آپ نے فرمایا، تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اُس نے کہاں ہاں۔آپ نے فرمایا جاؤ اُن کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے۔ایک اور موقع پر حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کی بیعت کرنے کو حاضر ہوا اور ماں باپ کو گھر روتے چھوڑ آیا ( یہ ہجرت کی بیعت سے مراد یہ ہے کہ مکہ میں جو لوگ مسلمان ہوتے تھے وہ بعض دفعہ تکلیفوں کو برداشت نہ کر کے وہاں سے ہجرت کرتے تھے تو آکر دوبارہ آنحضرت کی بیعت کیا کرتے تھے ، اُسے ہجرت کی بیعت کہا جاتا تھا)۔اب یہ ظاہر نہیں فرمایا گیا اس روایت میں کہ اُس کے ماں باپ مومن تھے یا مشرک تھے۔بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں تھے مگر ان کو وہ روتا ہوا پیچھے چھوڑ آیا تھا۔آپ نے فرمایا، واپس جاؤ، جیسے تم نے انہیں رلایا ہے ویسے انہیں جا کر ہنساؤ۔بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر ماں باپ فوت ہو جائیں تو اُن کی خدمت کیسے کی جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب بڑے واضح طریق پر دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ چار طریق سے تم اُن کے ساتھ حسن سلوک کر سکتے ہو ان کے لئے عمومی دُعا کرو، اُن کے لئے خدا تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے رہو، اور اُن کے وعدوں کا ایفاء کیا کرو یعنی جو کچھ انہوں نے وعدے