اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 6
حضرت خلیفہ مسیح الرائع کے مستورات سے خطابات ۶ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء ہو اور اسلامی پردہ چادر ہی ہے لیکن میں جانتا ہوں اور میر انفس جانتا ہے اور آپ کا نفس جانتا ہے کہ وہ چادر اسلامی پردہ نہیں جو آج بے پردگی کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔اسلامی قدرمیں تو ڑی جارہی ہیں اور ان کو کوئی پرواہ نہیں کہ ان کی نسلوں کا آگے سے کیا حال ہوگا۔ان کو نہیں پتہ کہ وہ ناچ گانوں میں مبتلا ہو جائیں گی اور بے حیائی میں ایسے قدم آگے بڑھائیں گی کہ پھر نہیں روکی جائیں گی۔اس کے برعکس ایسی سوسائٹیاں ہیں جہاں بے حیائی عام ہے جہاں ننگ کا تصور ہی بالکل مختلف ہے۔ننگے بازو، ننگے چہرے بلکہ بدن کے ایسے اعضاء ننگے کر کے وہ پھرتی ہیں کہ انسان کی نظر پڑتی ہے تو حیران ہوتا ہے کہ عورت یہاں تک بھی پہنچ گئی۔وہاں جب مسلمان عورتیں احمدیت کو اختیار کرنے کے بعد اسلامی قدروں کو اختیار کرتی ہیں اور اپنے چہروں کو نہ بھی ڈھانپیں تب بھی وہ چادر کے ساتھ ایسا پردہ اختیار کرتی ہیں کہ ان کی شرافت اور ان کی نجابت ساری سوسائٹی کو نظر آرہی ہوتی ہے۔ان کے طرز عمل دعوت نہیں دیتے بلکہ دھکے دے رہی ہوتی ہیں نظروں کو۔اس سوسائٹی میں وہ بعینہ اسلامی پردہ ہے استثناء نہیں ہے۔اس لئے مختلف حالات میں مختلف پس منظر کو دیکھ کر انتظامی فیصلے کرنے پڑے ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ اسلام نے ان سب چیزوں کی گنجائش رکھی ہوئی ہے۔ایک اور پردہ ہے جو اہل بیت کا پردہ ہے۔اب دیکھئے کہ اہل بیت کا خدا اور تھا اور عام عورتوں کا خدا اور تھا ؟ خدا جانتا تھا کہ بعض خاندانوں پر زائد ذمہ داریاں عائد ہوا کرتی ہیں۔اگر وہ ایک گناہ کی طرف قدم اُٹھا ئیں تو دوسری عورتیں دس قدم اُٹھا ئیں گی ایک نیکی کی طرف قدم اُٹھائیں گی تو دوسری عورتیں دس قدم نیکیوں کی طرف اُٹھا ئیں گی۔اس بنیادی فلسفہ کو خدا تعالیٰ نے پیش نظر رکھتے ہوئے جو خالق کا ئنات ہے جس نے انسانی فطرت کو پیدا کیا یہ حکم دیا اور یہ نا انصافی کا حکم نہیں تھا۔یہ حکم دیا کہ جہاں تک ہو سکے تم گھروں کے اندر ٹھہری رہو۔بے ضرورت باہر ہی نہ نکلو اور نکلو تو پوری طرح اپنے آپ کو ڈھانپ کر اور ہر گز کسی کو موقع نہ دو کہ تمہارے چہروں کو دیکھے اور بدنظر سے ان پاک چہروں کو نا پاک کرنے کی کوشش کرے یہ ایک تیسری قسم ہے پردے کی۔تو یہ تینوں قسم کے پر دے اسلامی ہیں اور مختلف حالات میں وہ نافذ ہوں گے لیکن افراد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی۔یہ جماعت ایک منظم جماعت ہے اس میں وحدت کا تصور ہے افراد کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ جدھر چاہیں منہ اٹھا کر پھریں اور نظم و ضبط کو توڑ دیں اور اسلامی پردے کا تصور ہی سارا اس سوسائٹی سے اُٹھتا چلا جائے۔